-
ستغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: `اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے -
آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔ -
انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔
-
یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔ -
آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔ اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔ -
خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے -
`اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔
-
جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔
-
یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-
-
مصنف نے اپنی کتاب کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے -
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
`تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ -
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔ -
موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے