زیرِ نظر کتاب میں موت کے بعد کے احوال کا کتاب وسنت کی روشنی میں تذکرہ کیا ہے،نیکوکار لوگوں کے احوال کیا ہوں گے اور بدکار لوگوں کا انجام کیا ہے گا۔حشر، میزان، جنت اور جہنم کے متعلق کتاب وسنت سے عمدہ راہنمائی پیش کی ہے۔`فکرِآخرت` جس فرد کے دل میں اجاگر ہوجائے وہ اللہ کی نافرمانی کے بہت سے معاملات سے بچ جاتا ہے۔
-
یہ رسالہ روزہ کے مختصر احکام پر مشتمل ہے جس میں اسکے آداب وسنن کا مختصراذکر ہے،چونکہ اس عبادات کی شان بڑی عظیم ہے،اس کے احکام کا سیکھنا بھی ضروری ہے،تاکہ مسلمان کو واجب چیزوں کا علم ہواور وہ اسے بجالاسکے،حرام کا پتہ ہو جس کی بناء پر اس سے بچ سکے اور مباحات کی خبر ہو تاکہ خود سے محروم کرکے مشقت میں مبتلا نہ کر لے۔
-
زیرِ نظر کتاب ` مسائلِ عُشر پر تحقیقی نظر` کے نام سے ایک مضمون جس میں فرضیتِ عشر،نصابِ عشر،مختلف اجناس اور اس کے مصارف کو بھی بیان کیا ہے۔احادیث کی بڑی بڑی کتب میں تو اس مسئلہ میں ابواب موجود ہیں لیکن عام مسلمان کے لیے اردو زبان میں کوئی مستند کتاب نظر سے نہیں گزری،چنانچہ مفتی صاحب نے قرآن وسنت کی روشنی میں انتہائی محنت وکاوش سے کتاب ہذا تحریر کی۔ -
تزکیہّ نفس کی اصلاح،باہمی محبت اور اخلاقِ حسنہ کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے زیرِنظر کتاب بہ عنوان` قربت کی راہیں`مرتب کی ہے،یہ ایسی آیاتِ کریمہ اور احادیثِ شریفہ کا منتخب مجموعہ ہے کہ جن کا تعلق اخلاق وآداب سے ہے۔احادیث کا حسنِ انتخاب قابلِ تحسین ہے۔ اخلاقِ رذیلہ اور نفسِ امارہ کی اصلاح کے لیے فرمانِ الہی اورسنتِ رسول ایک اکسیر ہے۔اس کے ساتھ تجدیدایمان،تطہیرِ نفس،مردہ دلوں کو زندگی اور بیمارذہنوں کو شفا ملتی ہے -
متعلقہ کتاب رقص و موسیقی کے موضوع پر جامع کتاب ہے۔آج ہمارے معاشرے میں رقص و موسیقی اور فحاشی و عریانی نے پوری قوت سےڈیرےلگارکھے ہیں۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جواس کےاثرات سے محفوظ رہاہو۔مسجد میں،جو فقط اللہ کی عبادت اور اس کے حضورسربسجودہونےکےلیےخاص ہیں،وہاں پربھی موبائل اور گھڑیاں بھرپورطور پر موسیقیکے رنگارنگ ساز پیش کرتی ہیں۔جلتی پرتیل کاکام وہ علمائےسوء کررہے ہیں جوخانہ سازدلائل کےساتھ رقص وموسیقی کے جوازکے فتوے جاری فرمارہےہیں۔اسےروح کی تسکین قراردےرہےہیں،خود بھی گمراہ ہورہےہیں اورقوم کوبھی گمراہ کر رہے ہیں۔ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہےکہ رقص وموسیقی کےحوالےسےشرعی دلائل پیش کرکے قوم کو جہنم میں گرنےسے بچایا جائے -
صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی زبان میں لکھی گئی شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نووی کی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں اس کی شروحات وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاں اور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر ہے اورطویل عرصہ سے یہی ترجمہ متداول ہے لیکن اب اس کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے کتب ستہ کے ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف ادارہ ہ کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا ۔ تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے