-
آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم و رواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس سے متعلق اسلام خاموش ہے، اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ظلم ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو اس میں دین و دنیا کے ہر شعبہ سے متعلق راہنمائی ملے گی۔ مغربی معاشرے میں لا علاج مریضوں کو ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جس میں زہر ہوتا ہے اور یہ زہر مریض کی اکھڑی ہوئی ناہموار زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے، جبکہ اسلام ایسی ادویات سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے یہ سبق ملتا ہے کہ بیماری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نویدِ رحمت ہوتی ہے ۔ بیماری سے مومن کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور مریض کی عاجزی اور تسبیح و تہلیل قبول فرما کر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرنے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ زیر نظر کتاب`ہسپتال میں طبیب اور مریض کے ساتھ` دکتور محمد عبد الرحمٰن العریفی کی عربی تصنیف ہے جس کو مولانا حافظ قمر حسن کے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اردو ترجمہ میں ڈھالا ہے۔موصوف نے کتاب ہذا میں مریض، طبیب اور علاج معالجہ سے متعلق دینی احکامات کو قلمبند کیا ہے اور مریض کے عیادت کے فضائل کے ساتھ ساتھ عیادت کے آداب وغیرہ کو بھی درج کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے لیے بلندی درجات کو سبب بنائے اور اہل اسلام کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے -
انسانی زندگی میں عمل ِصالح کی بڑی اہمیت ہے ۔معاشرے میں کسی فرد کانیک کردار نہ صرف خود اسے فائدہ دیتا ہے بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی اس کی خوش اطواری سےمستفید ہوئے بغیر نہیں رہتے۔عمل صالح کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ۔یو ں عمل صالح گویا ربانی ملازمت ہے جو آدمی اعمال صالحہ پر کاربند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ دین کی بھی خدمت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے ۔آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے عمل صالح کی توفیق مل جائے تو اس سےبڑی خوشی نصیبی اور کوئی نہیں۔زیر نظر کتاب’’کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف’’ هل تبحث عن وظيفة‘‘ کااردو ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے روزہ مرہ اور تاریخی واقعات کے پس منظر میں یہی باور کرایا ہے کہ عملِ صالح ہی انسانی فلاح وبہبود کاضامن ہے۔امید ہے کہ یہ ایمان افروز کتاب قارئین کو عمل وکردار کے سنوارنے میں مدد دے گی ۔کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے۔زیر تبصرہ کتاب کی اردور ترجمانی کے فرائض دارالسلام کے ریسرچ سکالر حافظ قمر حسن نے سرانجام دئیے ہیں ۔ اللہ تعالی مصنف ومترجم کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نواز ے اور اس کتاب کو اہل ایمان کی اصلاح کاذریعہ بنائے -
Social contract defines the role of individual in the development of society. This book ‘Islamic Guidelines for Individual and Social Reforms’ throws light on the same. The writer, Shaikh Muhammad bin Jamil Zeno is originally from Syria, but for a long time he has been a teacher in Dar-ul-Hadith AlKhairiyah, Makkah Al-Mukarramah. He has written and compiled a range of books on numerous topics. He holds the honor to have a place in the rank of those authors of present time whose work has been widely accepted. His style and ability to express views in a delicate manner make him one of the most popular books in the Islamic world today. You will find this Islamic ebook one of the hottest in search world. -
Ministers around the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon Him), Compiled by Abdul Aziz As-Shanawi. This book elaborated the biography of the famous companions of the Holy prophet (PBUH). The details of these Companions (Sahaba’as) are given as: Al-Miqdad bin `Amr (May Allah be pleased with him) Abdullah bin Mas`ud (May Allah be pleased with him) Hamzah bin `Abdul-Muttalib (May Allah be pleased with him) Abu Bakr As-Siddiq (May Allah be pleased with him) Abu Dharr Al-Ghifari (May Allah be pleased with him) Ali bin Abu Talib (May Allah be pleased with him) Hudhaifah bin Al-Yaman (May Allah be pleased with him) Ammar bin Yasir (May Allah be pleased with him) Bilal bin Rabah (May Allah be pleased with him) Umar bin Al-Khattab (May Allah be pleased with him) Ja`far bin Abu Talib (May Allah be pleased with him) -
مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔ -
سلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔زیر نظر کتاب انتہائی معلوم افزاء اور اہم ہے۔ جس میں مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ ،مدینۃ الرسول کے فضائل و مناقب ،حدود حرم مدینہ ،ہجرت کے واقعات ،مدینہ منورہ سے یہودیوں کی جلاو طنی ،مسجد نبوی کی جدید و قدیم توسیع کے مراحل ،مسجد نبوی کی فضیلت ،زیارت قبر نبوی کا مشروع طریقہ اور مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد کو انتہائی شائستگی و سلاست سے بیان کیا گیا ہے ۔نیز اس کتاب میں قارئین کی دلی آسودگی ،قلبی تسکین اور مدینہ منورہ سے وابستہ یادوں کا جمیع سامان میسر ہے ۔جس کے مطالعہ سے آپ مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ اور اس کے متعلقہ مسائل کے بارے میں شرعی راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ -
قیامت کےمردوں کی طرح عورتیں بھی اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گی اس لیے ہماری محترم ماوًں،بہنوں،اوربیٹیوں کو زندگی کےہرمرحلے میں اپنی ضروریات اور معاملات کی انجام دہی کے لیےدینی احکام اور ہدایات سے پوری طرح باخبر رہنا چاہیے یہ کتاب آگہی کا مقصد بخوبی پورا کرتی ہےاسی لیے یہ زیادہ توجہ اور تکریم کی مستحق ہے مختلف گھرانوں کی خواتین کوخانگی زندگی کےنشیب وفرازمیں بہت سی الجھنیں اورمسائل پیش آئے۔انھوں نےرہنمائی حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کے اجل علمائے کرام سے رجوع کیا تو ان رجال کبارنے قرآن و سنت کی روشنی میں فتوے جاری فرمائے – یہ کتاب انھی بیش بہا فتووں کا مجموعہ ہے اس میں ان تمام مشکلات اور مسائل کادینی حل آسان الفاظ میں بتا دیا گیا ہے جو ہماری محترم خواتین کو وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اکثر خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں –دل کی بات زبان پر نہین لاتی –اس طرح ان کہے سوالات اور نازک مسائل ان کے دل ودماغ میں چکر کاٹتے رہتے ہیں ایسی خواتین اس کتاب کاخاص طور پر مطالعہ فرمائیں-انشاءاللہ! انھیں قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے تمام مسائل کا تسلی بخش حل اور ہر سوال کا شافی جواب مل جائے گا -
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔ -
قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے ۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا ۔زیر نظر کتاب ``عظمت حدیث ``مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف کی تصنیف ہے جوکہ حدیث کے حوالے حافظ صاحب کے 6 مضامین کا مجموعہ ہے ۔ منکرین حدیث اس کتاب کے اولین مخاطب ہیں۔مزید اس کتاب میں حافظ صاحب نے حدیث کی تشریعی حیثیت کے منکرین کے علاوہ حدیث کےبارے میں اہل تقلید کے طرزِ عمل کے نقصانات کا جائزہ لیا ہے او رشاہ والی محدث دہلوی کی مسند کے ``جانشین حضرات`` کو شاہ صاحب ہی کی زبان میں تفہیم کی شاندار کاوش کی ہے مصنف کےنزدیک بعض اہل حدیث حضرات کا طرز عمل بھی غیر محدثانہ روش کا آئینہ دار ہے ۔ اس طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد امن وسلامتی کی راہ اپنانےکے رہنما خطوط پیش کرتے ہوئے حدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوحدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے -
اس کتاب ميں عقيدہ،قربانی،تصويروں،مجسموںمنتراورتعويذ،وضو،غسل،طہارت،اذان،نماز،زکوٰۃ،روزے،حج اوراس سےمتعلقہ مسائل،سود، بينکوں کےمعاملات،وصيت،ميراث،نکاح،طلاق،پردہ،اطاعت والدين،غنا،موسيقی اورمعاشرتی زندگی سےمتعلق متفرق معاملات پر270سےزائدسوالوں کےجوابات قرآن وحديث کی ميں مفتی اعظم سعودی عرب ديئےہيں۔اُردوزبان ميں اپنی نوعيت کی پہلی اورمنفرکتاب ہےجس ميں روزمرہ زندگی ميں پيش آنےوالےبہت سےسوالات کاجواب موجودہے۔ -
This book provides over a hundred lessons for life derived from the Qur’an for the 21st century Muslim. It will have succeeded in its effort if this book helps Muslim understand their religion better so that they become better Muslims. The lesson in this book are meant to be powerful words of advice to Muslims who find themselves at a certain situation in their lives, the direct words of advice from Allah are quoted by quoting the Qur’an, and provide with an interpretation and explanation to make it easier for the modern day Muslim to understand and use this advice practically. -
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے روشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے
-
The Noble Qur’an is a کلام اللہ (Kalam Allah), the eternal message, preserved forever, for all humanity. Allah’s Word was revealed, for the last time, to the final Messenger, the Prophet Muhammad (PBUH). Within two centuries of the founding of Islamic state, Muslims had spread the Message of Din Al- Haq east to the border of China and west to Spain and the shores of Atlantic. The secret of chines papermaking, first passed on the Muslims in Baghdad, created an ‘Information explosion’ that reverberated throughout Dar Al-Islam. Inexpensive paper permitted the dissemination of kalam Allah and eventually, the transcription of hundreds of thousands of Ahadith. The Islamic world soon developed a creative and literate culture of high civilization. This story chronicles the nine hundred yearlong odysseys of a beautiful handwritten Qur’an produced in Cordoba in the 11th century. The plight of the Moriscos(Arabic Al- Muriskiyyun), the last Muslims of Al- Andalus, becomes an integral part of the amazing story of well-traveled Qur’an.
-
Science has never been separate from Islam. Objective study of this subject will reveal that Islamic texts - Qur`an and the Sunnah, provided a tremendous boost for study of the physical world and the laws that govern it. As a result, discoveries and inventions became the hallmarks of the Islamic civilization. Recently there has been a surge in the number of publications dealing with science and its relationship with Islam. These books have focused on the various verses on the Qur`an that point to the physical world to prove that science is compatible with Islam. However, areas that are not covered enough for the English reader are the historical development of science and technology in the Muslim world, and the factors that led to its rise and decline. The decline has been so severe, that today`s Muslims are not even aware that their ancestors were the founding fathers of modern sciences. Just consider the common Arabic words used in the English language today like cotton, algebra, aorta, alcohol, chemistry, earth and alkaline. They are a living testimony to the pioneering work of the Muslims. I am proud to introduce this inspiring book to our readers. It focuses on the strides made by the Muslims in various disciplines of science and technology from the early period of the Islamic State to its last days in the 20th century CE. The unique aspect of this book is that it sheds light on the key factors that led to the rapid advances in science and technology. Furthermore, it also analyses the reasons why Muslim World declined in this field, and last but not least, how the Muslim World can achieve the same kind of success as we already have in the past. -
کتاب التوحد `کتاب التوحد` شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی وہ مایہ نازکتاب ہے جو ہر دورکے گمشتگان بادیہ ضلالت اورشرک و بدعت کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والوں لے لئے مینارہ نور ہے۔ لاکھوں لاگوں نے اس کتاب کے بدولت اپنے عقیدہ کو درست کیااور صراط مستقیم پر چلنے لگے تقویۃ الایمان `تقویۃالایمان` کا موضوع بھی توحید ہے۔اور زبان میں شاہ اسمعیل شہید رحمہ اللہ کی یہ کتاب محمولی پڑھے لکھے آدمی سے لے کر متبحرعالم دین تک سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ انداز بحث اور طرزا ستدلال سب سے نرالا اور سراسرمصلحانہ ہے، -
عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے- -
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
Cartography, a word from Greek origin, is the science and art of mapmaking and is an endeavor paramount in the intellectual development of human being. When the Muslims of 9th century Baghdad decided to preserve the totality of classical Greek science in Arabic, the new language of civilization, they discovered Ptolemy. His Geographia was a guide to mapmaking and enormously important for all Muslim mapmaking. Over the next five hundred years, Muslims increased their knowledge of geography and perfected their mapmaking skills, eventually producing maps of great complexity and beauty. Modern cartography has its origin in the many breakthroughs made by Muslim scientist, centuries ago. This book is not meant to be a history of maps, but a celebration of some of the achievement of Muslim master mapmaker. Insha’ Allah, readers of this book will be encouraged to view maps of all kinds with greater appreciation, knowing the great amount of labor and learning that have facilitated their production. -
`Honorable Wives of the Prophet (PUBH)` is a beautiful and much-needed work carried out by Darussalam Research Center as it compiled the authentic information about all the honorable wives of our Beloved Prophet Muhammad (PBUH) in one book and plain language. زیرِ نظر کتاب دارالسلام ریسرچ سینٹر کا ایک بہترین کام ہے کہ اس ادارے نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات کے بارے میں مستند معلومات ایک کتاب میں یکجا کردی ہے جس سے قاری کو علم حاصل کرنے میں سہولت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں ازواجِ مطہرات کے حوالے سے تمام معلومات موجود ہے جس میں اُنکا اخلاق و کردار، شجرہ، اور زندگی کے اہم واقعات شامل ہیں -
یہ کتاب زیادہ بڑی نہیں۔ عام لوگوں کے لیے ہے۔عام فہم ہے وہ لوگ جو رمضان میں اپنی زندگی میں انقلاب لانا چاہتے ہیں ؛بلاشبہ رمضان ان کی زندگی کو نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔یہ ایک روزنامچہ ہے۔رمضان میں ہم ہر روز ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ یہ تہیہ کرسکتے ہیں کہ ہمیں آج کیا کام کرنا ہے۔ تھوڑی سی محنت ، تھوڑی سی جدوجہد اور عزم و ارادہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ -
بیت االلہ اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت اور حج و عمرہ کا ارمان ہر صاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتا رہتا ہے۔ شرعی رہنمائی کے لیے حج و عمرہ اور مقدس مقامات کی زیارت کے احکام و مسائل کو آسان انداز میں بیان کرنے کے لیے دارلسلام نے `حج و عمرہ گائیڈ بک` تیار کی ہے۔ جو مختصر ہونے کے ساتھ جامع بھی ہے۔ تفصیلی احکامات کے لیے دارلسلام `مسنون حج و عمرہ، احکام و مسائل` کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ اللہ کے فضل و احسان سے دارلسلام کتاب و سنت کی تحقیق و اشاعت کا عالمی ادارہ ہے جس نے گزشۃ 25 برسوں میں دنیا کی 24 زبانوں میں قرآن کا ترجمہ شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا، نیز اردو عربی، انگیزی، فرنچ، سپینش، ہندی، بنگالی، پشتو، فارسی اور سندھی کے علاوہ دیگر زبانوں میں 1500 سے زائد معیاری کتابیں شائع کی ہیں۔ سعودی عرب میں مکہ مکرمہ، جدہ، الریاض، الخبر کے علاوہ اس کی شاخیں تین براعظوں ایشیا، یورپ اور امریکہ میں قائم ہیں۔ قائین کرام سے گزارش ہے کہ حرمین میں عبادت کرتے وقت ادارہ دالسلام، اس کے منتظمین اور جملہ اراکیں کو خصوصی دعاوں میں ضرور شامل کریں۔ اللہ ہمیں خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ تو فیق عطافرمائے۔ آمین! -
خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے