-
اقوام عالم کی تاریخ کا بیشتر حصہ ظلم وجبرکی گہری وتاریک رات پر مبنی ہے اوراس سیاہ تاریخ کے صفحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ایک روشن اور سنہرا باب ہے ۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ انسانی زندگی کے بنجراور خشک صحرا میں ایک سرسبز درخت اورمیٹھے پانی کی بہتی ندی کی مانند ہے۔ چشمہ نبوت سے بہتی یہ ندی ہر شعبہ ہائے زندگی(انفرادی، اجتماعی، گھریلو، کاروباری، ذاتی، پروفیشنل) سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کی نہ صرف پیاس بھجاتی ہے بلکہ انسانی زندگی کوایک نئی روح بخشتی ہے۔ زیر نظر کتاب عرب دنیا کے مشہور مصنف ڈاکٹر عائض القرنی کی زندگی کی تیس سالہ محنت کا نچوڑ ہے جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ مبارکہ کو جدید عالم کے تمام تر چیلنجز کے لئے ایک نسخہ کیما کے طورپر پیش کریں۔ زیر نظر کتاب آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضبط نفس، ایثاروقربانی، سخاوت وہمدردی اور خود احتسابی کی عملی تصویر پیش کرے گی۔ کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اپنی محبت وعقیدت کی مثال قائم کی۔ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم امن عالم ، اتحاد، محبت، ہمدردی اور خوشحالی کا عالمی سفیر بن کر ابھرے۔ زیر نظر کتاب زندگی کے تمام شعبوں سربراہان مملکت، عوام الناس،امیر،غریب کے لیے ہر ایک لئے رہنما ہے۔ تمام بنی نوع انسان کے لئے سیرت کا وہ روحانی پیغام جس کا خطاب نہ تو مخصوص لوگوں سے ہے اور نہ کسی خاص وقت کےلئے بلکہ قیات تک آنے والےہر انسان کے لئے اتنا ہی مفید ہے جتنا پہلے سب سے پہلے مسلمان کے لئے تھا۔ زیر نظر کتاب میں آپ کے تعارف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار ان پہلووں سے ہوگا جن کے ذریعے آپ اپنی ذاتی زندگی کے کردار کو ایک نیا وجود،پاکیزگی اورجلا بخش سکتے ہیں۔ 1 - اسوۃ عالم یہ کتاب مصنف کے سالہا سال مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ 2 - یہ کتاب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنف کی رسول اللہ ﷺ کی ذات سے محبت اور وابستگی کس قدر گہری ہے 3 - یہ کتاب ہمارے دلوں کے اندر بھی سیرت سے محبت اورلگن کی شمع روشن کرتی ہے۔ 4 - یہ کتاب ہمیں کامیابی ابدی زندگی اور دائمی راحت کی راہ دکھاتی ہے۔ 5 - یہ کتاب سیرت کے موضوع پر ایک نادر اور اچھوتی کتاب ہے۔ یہ کتاب آپ کی زندگی بدل دے گی اور اسے پڑھنے والا دائی مسرتوں اور کامیابیوں حامل بن جائے گا۔ان شاءاللہ -
زیر نظر کتاب میرے اسلاف مصنف کی وہ تصنیف لطیف ہے جس کی ہر ہر سطر میں اہل علم سے محبت جھلک اور چھلک رہی ہے۔ اس کتاب میں مولانا محمد بکنوی، مولانا عطاء اللہ شہید، علامہ احسان الہی ظہیر، پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاول پوری، مولانا عبد اللہ گورداس پوری اور مولانا محمد اسحاق بھٹی کے حالات و واقعات قلم بند کیے گئے ہیں۔ یہ چھ وہ محترم شخصیات ہیں جنھوں نے زندگی بھر کتاب و سنت کا علم ہر سو لہرانے کی سعی فرمائی، ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنھوں نے بانگ دہل کلمات کہنے کی وجہ سے اپنی جان کا نذرانہ بھی راہ خدا میں پیش کردیا۔ الله تعالی جمیع اسلاف کی تمام تر دینی کاوشوں کو شرف قبولیت بخش کر ان کی نجات کا زریعه بنائے۔
-
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں -
If you only have information and knowledge about one human being in your life, knowing about the prophet Muhammad (PBUH) is the most beneficial. Everything he showed his companions and the rest of the world was beneficial. No one’s life was studied closer and in more detail than his. He let his private life, his family life and his business dealings be the subject of study. He let every aspects of his life, even his tears, be the subject of study. There is no figure in history whose life, public and personal, is so well documented by eyewitness reports. It is truly and enlightening documents to study. -
Imam Tirmidhi was a Persian Islamic scholar who is regarded as one of the most authentic collectors of Ahadith and his compilation of the sayings of the Prophet Muhammad (P.B.U.H) is also included in one of the six canonical collections of Authentic Ahadith known as Saha-e-Sitta. This book is about the life, character, education, work & personality of Imam Tirmidhi and also shares interesting information related to his times and challenges. -
One of the blessings of Allah upon this Ummah is that He appointed for it people who would undertake to preserve the Sunnah of their Prophet (S). They were the scholars who devoted their entire lives to this monumental task, foregoing physical pleasures and taking delight, instead, in spending the nights recording hadeeths and in undergoing hardships in order to convey even one hadeeth from the Prophet (S). One of those eminent scholars is the subject of this biography: Aboo Daud Sijistaanee -
Abū ʻAbdillāh Muḥammad ibn Yazīd Ibn Mājah al-Rabʻī al-Qazwīnī commonly known as Ibn Mājah R.A was a scholar of Hadith and the compiler of the authentic collection of Ahadith Sunan Ibn Majah. This books shares the authentic information on the life and work of Imam Ibn Majah R.A and provides a complete biography of him in simple and easy to understand language. -
`شیخ البانی ؒ اہلِ سنت میں سے ہیں، سنت کے داعیوں میں سے ہیں اور حفاظتِ سنت کے راستے پر گامزن مجاہدین میں سے ہیں۔۔۔ حدیث شریف کی صحیح ، ضعیف اور موضوع روایات کے امتیاز و بیان میں ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔۔۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا اللہ رب العزت کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کی علم حق، صحیح منہج اور علم حدیث کی طرف رہبری کی ہے اور بہت زیادہ نفع پہنچایا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اُنکی سوانح حیات ہے جو کہ خاص و عام سب کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے -
بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے اردگرد کے انسانوں کی عادات و اطوار، زبان، سوچ اور عمل اپنانا شروع کردیتا ہے۔ کردار و عمل کے جیسے نمونے اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت ان کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کو مثالی شخصیت (ہیرو) قرار دے کر اس کے سانچے میں ڈھل جانا چاہتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنا ہیرو عام آدمی کو نہ بناؤ بلکہ خوبی اور جمال کی تصوریں دیکھو۔ عظیم ترین خوبی، کامرانی، حسنِ اعتقاد اور حسنِ عمل کا سب سے زیادہ خوبصورت پیکر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بس انھی کو اپنا رہبر مانو، انھی کو دیکھو، انھی کی سیرت کا مطالعہ کرو اور انھی جیسے پیارے پیارے کام کرو۔۔۔ یہ کتاب اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں، خاص طور پر حضرت محمد ﷺ کے فکر و عمل کے درخشاں نقوش سے مزین ہے۔ آسان، شگفتہ اور شستہ۔ خودبھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ امید ہے حسنِ فکر و عمل کا گلشن کِھلے گا۔ نئی نسل پاکیزہ ترین راستوں کو اپنا کر اپنی اور آپ کی زندگیوں کو سکون اور اطمینان سے معمور کر دے گی۔ -
صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے -
صحابہ کرام رضی اللہ عنہُم میں بعض ایسی بھی شخصیات تھیں جو زمانہ کفر میں بھی بڑا نمایاں مقام رکھتی تھیں اور جب اسلام قبول کیا تو ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی اور انھوں نے کفر کی حالت میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کی بھر پور تلافی کرنے کی کوشش کی-ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بڑا نمایاں ہے- سید نا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زمانہ کفر میں بھی بڑے دانا ،سمجھدار ،مدبر،خطیب،شاعراور کامیاب سفارت کار تھے- وہ گفتگو کرنے کا سلیقہ اور طریقہ خوب جانتے تھے –حدیبیہ کے مقام پر قریش کی طرف سے سفیر بن کر آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کی شرائط پر قریش مکہ کی طرف سے دستخط کرتے ہیں – پھر ایک دن آیا ،ان کی قسمت نے پلٹا کھایااوروہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کر لیتے ہیں -
کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے `مکتبہ دار السلام`کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہدصاحب طباعتی میدان کی ایک معروف عالمی شخصیت ہیں۔جنہیں اپنے ادارے کے فروغ کے لئے متعدد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،اور وہ اللہ کی توفیق اور مدد سے ان تمام مشکلات وچیلنجزسے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب` نوجوان نسل کی رہنمائی کے لئے سنہری یادیں` میں انہوں نے بذات خود اپنی سوانح حیات قلم بند کی ہے اور اپنی زندگی کے تجربات کو نوجوانان امت کے شیئر کئے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے اپنی پیدائش سے لیکر اس کتاب کی تصنیف تک اپنے حالات زندگی کو تحریر فرمایا ہے۔اس میں انہوں نے اپنا بچپن،اپنا گاؤں،والدہ محترمہ،اساتذہ کرام،سعودی عرب آمد،وزارۃ الدفاع میں ملازمت،شیخ محمد بن عبد اللہ المعتاز سے شناسائی،دار السلام کے قیام ،فروغ اور وسعت،سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبد العزیز سے ملاقات،مسجد نبوی کی لائبریری میں دار السلام کی کتب ،امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس سے ملاقات،پیغام ٹی وی کی سالانہ میٹنگ میں حاضری،دار السلام ریسرچ سنٹر،دار السلام پرنٹنگ کمپلیکس لاہور،اور اپنی زندگی میں پیش آنے والی اس جیسی متعدد چیزیں بیان کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’دارالسلام‘‘ میرا خواب تھا۔ ریاض میں اس کی تعبیر سامنے آئی۔ کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے دنیا کی سب سے بہترین طباعت و اشاعت کا ادارہ ، اللہ رب العزت نے اسباب ہی فراہم نہیں کیے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی ٹیم بھی فراہم کر دی۔ آج دارالسلام عالم اسلام کا سب سے نمایاں ادارہ قرار دیا جا رہا ہے، ہم 1400 سے زائد ٹائٹل چھاپ چکے ہیں۔550 انگلش میں اور 330اُردو میں۔ باقی عربی میں۔30 ممالک میں ہماری فرنچائز کام کر رہی ہیں۔ 100 نئی کتابیں آنے والی ہیں۔ ہماری ہر کتاب کا ایڈیشن تین ہزار کا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک نئی روایت ہے کہ ہر کتاب کے کئی کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں صحت اور نیکی والی لمبی زندگی سے نوازےاور ان کے لگائے گئے اس پودے کو ،جو اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے،دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا فرمائے اور ان کی ان محنتوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ -
خدا تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا اور پوری دنیا میں آپ کو منفرد او رمعزز مقام عطا کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی ہمہ گیریت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ مسلمان تو مسلمان کفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اب تک بے شمار کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کےکسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔زیر مطالعہ کتاب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے چند پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ان کتب میں ایک شاندار اضافہ ہے کتاب میں جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد ،آپ کی ولادت ،بچپن اور پہلی ہجرت کو حسین پہرائے میں بیان کرنے کا شرف حاصل کیا گیاہے وہاں آفتاب نبوت کی سنہری شعاعیں پڑنے پر خواب غفلت سے جاگ کر دشمنان دین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے بھی دکھایا گیا ہے اس کے علاوہ آپ اس کتاب میں امت کے فرعونوں کے انجام کار کی تصویر کشی ملاحظہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر چبانے والی کو رحمت عالم کے روبروبھی دیکھیں گے کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مردوں ،عورتوں اور بچوں کیلئے یکساں مفید ہے اور انداز اس قدر سادہ اور دلکش ہے کہ ایک دفعہ شروع کردو تو ختم کرنےسے پہلے اس سے نظر ہٹانے کو جی نہ چاہے۔ -
Many Muslims who were weak and enslaved suffered inhumane persecutions in the early days of Islam. Yet, they remained steadfast and brave in their belief in Islam and support of Prophet Muhammad (PBUH ). Khabbab bin Al-Aratt (R.A) was one of these oppressed believers who had no hope of protection or safety except for their strong belief in Allah`s salvation. Khabbab (R.A) rose from the degrading life of slavery to become a teacher of Allah`s revelation and a warrior in the cause of Allah`s religion. -
The Question & Answer form is the most effective and an objective method of teaching. For those who want to acquire the basic information of Islam or wish to check their knowledge about the religion without the labor of formal learning and any research, this series of Questions and Answers about the various aspects of Islam will prove much helpful. The Questions and Answers have been prepared on such basis that all irrespective of age and sex, should get benefited. It is hoped that readers would enjoy reading this collection and getting refreshed about this information presented to them. -
آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔
-
This book is a compilation of various memorable tours and trips of my life that includes Kingdom of Saudi Arabia, Urdan, Nigeria, Africa, China, Italy, Spain, France and many others. I have used very simple and imaginary language so that you may imagine yourself wandering around in these countries. If you ora ny of your loved ones is planning to visit these coiuntries then this book is going to help you alot. -
چونکہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، فقہائے کرام اور سلف صالحین کی زندگی امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ان تابندہ ستاروں کی زندگی کے درخشاں واقعات کو اختصار کے ساتھ یکجا کیا جا سکے- زیر مطالعہ کتاب میں عبدالمالک مجاہد نے اسلامی تاریخ کے انہی چنیدہ ستاروں کے واقعات احاطہ تحریر میں لائے ہیں- مصنف نے سیرت رسول ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین اور اس کے بعد ترتیب وار سلف صالحین اور نامور سلاطین کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا ہے کتاب میں ذکر کردہ مصادر صحیح اور مستند ہیں- اسلاف کے تفقہ، رسوخ فی العلم، تواضع، ایثار اور اعلائے کلمۃ الحق کے یہ واقعات ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے گرانقدر راہنمائی فراہم کرتے ہیں -
سیدنا فاروق اعظمؒ کی زندگی اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے ہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ نے حکومت کے انتظام و انصرام، بے مثال عدل و انصاف، عمال حکومت کی سخت نگرانی، رعایا کے حقوق کی پاسداری، اخلاص نیت و عمل، جہاد فی سبیل اللہ اور دعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سیدنا عمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی، اسے فاروق اعظم کے قائم کردہ ان زریں اصولوں کو مشعل اہ بنانا پڑا، جنھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنے مخصوص انداز میں صحابہ کرام کی زندگی کے چنیدہ واقعات کو قلمبند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے زیر نظر کتاب اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس میں فاروق اعظم کی زندگی کے سنہری واقعات احاطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔