-
`Honorable Wives of the Prophet (PUBH)` is a beautiful and much-needed work carried out by Darussalam Research Center as it compiled the authentic information about all the honorable wives of our Beloved Prophet Muhammad (PBUH) in one book and plain language. زیرِ نظر کتاب دارالسلام ریسرچ سینٹر کا ایک بہترین کام ہے کہ اس ادارے نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات کے بارے میں مستند معلومات ایک کتاب میں یکجا کردی ہے جس سے قاری کو علم حاصل کرنے میں سہولت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں ازواجِ مطہرات کے حوالے سے تمام معلومات موجود ہے جس میں اُنکا اخلاق و کردار، شجرہ، اور زندگی کے اہم واقعات شامل ہیں -
This book presents the indispensable information and knowledge for Muslims for their creed, beliefs and day-to-day life as well. It provides comprehensive knowledge on all the important subjects related to Islam such as Pillars of Imaan, Pillars of Islam, Biography of the Prophet, Biography of the Four Imam, Science of Tafseer, Science of Fiqh, and much more. -
This book is an effort into an in-depth analysis of social diversity, history and culture of the land of the noble prophet (PBUH), before and during the emergence of Islam. It stands witness to the events whereby one individual changed the destiny of humankind and ensured its salvation forever by bringing the Divine words from the Almighty Allah in the form of the Noble Qur’an. -
Ministers around the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon Him), Compiled by Abdul Aziz As-Shanawi. This book elaborated the biography of the famous companions of the Holy prophet (PBUH). The details of these Companions (Sahaba’as) are given as: Al-Miqdad bin `Amr (May Allah be pleased with him) Abdullah bin Mas`ud (May Allah be pleased with him) Hamzah bin `Abdul-Muttalib (May Allah be pleased with him) Abu Bakr As-Siddiq (May Allah be pleased with him) Abu Dharr Al-Ghifari (May Allah be pleased with him) Ali bin Abu Talib (May Allah be pleased with him) Hudhaifah bin Al-Yaman (May Allah be pleased with him) Ammar bin Yasir (May Allah be pleased with him) Bilal bin Rabah (May Allah be pleased with him) Umar bin Al-Khattab (May Allah be pleased with him) Ja`far bin Abu Talib (May Allah be pleased with him) -
کفارِ مکہ رسولِ مقبول ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے (نعوذباللہ)۔ چنانچہ اس بے ادبی کے جواب میں صحابہ کرام اور دیگر مسلمان شاعروں نے موثر طور پر آپ ﷺ کا دفاع کیا اور آپ ﷺ کے اوصافِ حمیدہ بیان کیے۔ نعت گوئی اس لسانی جہاد کی پیداوار ہے۔ مگر حیرانی کی بات ہے کہ برصغیر ہند و پاک میں ہندو کلچر کے زیر اثر بھجنوں اور گیتوں میں استعمال ہونے والے ہندی الفاظ، تلازمات اور مناسبات ، علائم و رموز اور تشبیہات و استعمارات کا استعمال بھی نعتیہ مضامین میں ہونے لگا یہاں تک کہ ہندی راگوں کی لے اور گیتوں کے انداز پر نعتیہ شاعری ہونے لگی۔۔۔۔۔ اور رفتہ رفتہ نوبت ایں جا رسید کہ موجودہ عوامی نعتوں کا اکثر و بیشتر ذخیرہ فلمی گانوں کے زیرِ اثر لکھا، پڑھا اور موسیقی کے آلاتِ محرمات کے ساتھ ٹی۔ وی چینلوں پر گایا جانے لگا ہے۔ نیز صوتی آہنگ کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ۔۔۔اللہ ۔۔ کے الفاط کو غنائیت (Rhythm) کے طور پر مستعمل کر لیا گیا ہے، جو آدابِ نعت گوئی کے سرا سر خلاف ہے۔ جبکہ نعت اور اس کے آداب کا حقیقی نمونہ صحابہ کبار ، اہل بیت اطہار اور صلحائے اُمت کے عربی، فارسی اور اُردو نعتیہ کلام میں ملتا ہے، جس کا انتخاب اس کتاب میں موجود ہے۔ قارئین سے التماس مطالعہ ہے۔
-
داڑھی رکھنے کے التزام کے لیے صرف اتنی دلیل ہی برہانِ قاطع کی حیثیت رکھتی ہے کہ داڑھی رکھنا ہمارے رہبرِ اعظم امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی سنت ہے۔ آپ ﷺ نے متعدد بار مونچھیں کٹوانے اور داڑھی کو معاف رکھنے کی تاکید فرمائی۔۔۔۔ آج ہمارے ہاں جو مغرب زدہ طبقہ داڑھی مونڈنے یا کاٹنے کی لولی لنگڑی دلیلیں دیتا ہے وہ فی الحقیقت اسلامی معاشرے کے ایک اہم شعار کی توہین کرتا ہے۔ فاضل مدینہ یونیورسٹی مولانا صہیب احمد میر محمدی صاحب نے ایسے لوگوں کی گمراہ کن باتوں کا قران و سنت کی روشنی میں نہایت مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔ انھوں نے اپنے مخصوص درد مندانہ لہجے اور عالمانہ اسلوب میں زور دیا ہے کہ ایمان کی بقاء و استحکام کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکام اور سنتِ رسول ﷺ کا التزام و احترام ہر مسلمان کا پہلا فوری فرض ہے۔
-
Human being is weak in nature. This lack of control on his desires makes him commit sins. The solution is to repent and ask Allah for forgiveness never to return to the path of darkness. In this way, Allah forgives his creation. Devil is the enemy of humans. He keeps provoking and tempting humans to commit sins and convinces them to not ask Allah for forgiveness and then comes a time when door of forgiveness closes and the man leaves for the eternal world. This book highlights such tactics that devil practices to lead a person astray and away from righteous path. -
اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے ،جسے اللہ عزوجل نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ کے طور پر مقرر فرمایا ہے ۔اس میں دنیا وآخرت کی بھلائی اور کامیابی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں ۔دین اسلام کی یہ خوبی اسے دوسرے ادیان ومذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اس میں دنیا وآخرت ہر دو کی رعایت رکھی گئی ہے اور زندگی کے ہر پہلو سے متعلق کامل رہنمائی دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منہاج المسلم ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین علامہ ابوبکر جابر الجزائری کی تصنیف ہے ۔اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ مولانا سلطان محمد جلالپور ی کے تلمیذ خاص شیخ الحدیث مولانامحمد رفیق الاثری نے کیا ۔اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں دلوں میں اترجانے والے بیش بہا اسباق چمک رہے ہیں ۔ زبان آسان ،عام فہم اور سادہ ہے ۔ عقائد ہوں یا عبادات کا بیان ، اخلاقیات کے مختلف پہلو ہوں یا اسلامی آداب وحقوق کا تذکرہ احکام ِتجارت ہوں یا معاشرتی معاملات، وراثت کے مسائل ہوں یا عائلی قوانین، قصاص ودیت کے اصول ہوں یا قضاء کےمسائل سبھی پر سیر جاصل بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب دین کی تعلیمات کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے ۔ لہذا ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے شب وروز اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کر سکیں اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں اور کامیابیوں سے بہرہ مند ہوسکیں ۔منہاج المسلم اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ہ ایڈیشن تحقیق وتخریج سے مزین ہے اس لیے اس ایڈیشن کوبھی پبلش کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے -
`اسلام کی نظر میں وضع کی درستی اصلاح قلب کا لازمی جزو ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ وضع درست ہو اور دل درست نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ دل درست ہو اور وضع پر اس کا کچھ اثر نہ پڑے۔ اصلاحِ وضع میں داڑھی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ داڑھی کا رکھنا دل کی ایمانی قوت کا اظہار ہے اور داڑھی منڈوانا دل کی کراہت و نیت کی خرابی کی علامت ہے۔ جس کا دل پاک صاف ہو، وہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ گنا ہ پر اصرار کرتے رہیں اور دل بھی صاف ہو؟ رسول اللہ ﷺ کی صورت مبارکہ یعنی داڑھی سے نفرت ہو اور روح بھی پاک ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے سخت تاکید فرمائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے۔ پس کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی اور نا فرمانی نہیں کر سکتا۔ اگر ہمیں اپنے آقا ﷺ سے محبت ہے تو ضروری ہے کہ ہم بھی اپنا چہرہ اس جیسا بنا لیں۔ -
Out of stock
اس کتاب میں ’’جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے‘‘ حدیث کی فصل شرح بیان کی گئی ہے اور ساتھ میں ایک شرعی و تحقیقی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ -
کتاب التوحد `کتاب التوحد` شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی وہ مایہ نازکتاب ہے جو ہر دورکے گمشتگان بادیہ ضلالت اورشرک و بدعت کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والوں لے لئے مینارہ نور ہے۔ لاکھوں لاگوں نے اس کتاب کے بدولت اپنے عقیدہ کو درست کیااور صراط مستقیم پر چلنے لگے تقویۃ الایمان `تقویۃالایمان` کا موضوع بھی توحید ہے۔اور زبان میں شاہ اسمعیل شہید رحمہ اللہ کی یہ کتاب محمولی پڑھے لکھے آدمی سے لے کر متبحرعالم دین تک سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ انداز بحث اور طرزا ستدلال سب سے نرالا اور سراسرمصلحانہ ہے، -
دین وشریعت کی دعوت اور تفہیم کے لیے بلا مبالغہ لا کھوں کتابیں لکھی گئیں جن سے ہزاروں کتب خانے تیار ہوئے مگر قرآن مجید اور احادیث کے متون کے بعد جو قبولیت کتاب التوحید کو ملی ہے،وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت بن چکی ہے یہ کتاب بارہویں صدی ہجری کے مجدد کامل امام الدعوۃ محمد بن عبدالوھاب رحمۃاللہ علیہ کے قلم کا شاہکار ہے –ان کی متعدد کتب ورسائل میں یہ ایک گل سرسبد کی حیثیت رکھتی ہے-اس کے مطالعہ سے حقیقت توحید واضح ہوتی ہے عمل کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں اور شرک وبدعات کے جھاڑجھنکار ۔۔۔۔ توحید کیا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہیں؟اس کتاب کا مطالعہ دینی زندگی کے اس سب سے بڑے اور سنجیدہ سوال کا جواب فراہم کرتا ہے-اس کے مطالعہ سے اس موضوع سے متعلق جملہ اشکالات کا ازالہ ہو جاتا ہے دارالسلام نے اپنے منہج تحقیق کے مطابق بہت سے متون سے ایک مستند متن تیار کرایا، اس کے حوالوں کی تخریج کی اور اردو زبان کے شستہ پرائے اور شگفتہ اسلوب میں اسے قلم بند کیا-اس کتاب اور موضوع کا یہ حق ہے کہ اِسے خود پڑھا جائے اور دوسروں کو مطالعے کے لیے پیش کیا جائے -
تمام انبیاء کرام ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید مترجم ‘‘ امام محمد بن سلیمان التمیمی کی عقیدہ توحید پر تصنیف شدہ کتاب التوحید کااردو ترجمہ ہےاردو ترجمہ کی سعاد ابو عبداللہ محمد سورتی نے حاصل کی ۔کتاب وسنت سائٹ پرشیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی عقیدہ توحید پر مشہور کتاب کتاب التوحیداور اس موضوع پر دیگر کئی کتب موجود ہیں لیکن کتاب ہذا موجود نہ تھی لہذا فادۂ عام او راسے محفوظ کرنے کی خاطر اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔
-
اس کتاب ميں عقيدہ،قربانی،تصويروں،مجسموںمنتراورتعويذ،وضو،غسل،طہارت،اذان،نماز،زکوٰۃ،روزے،حج اوراس سےمتعلقہ مسائل،سود، بينکوں کےمعاملات،وصيت،ميراث،نکاح،طلاق،پردہ،اطاعت والدين،غنا،موسيقی اورمعاشرتی زندگی سےمتعلق متفرق معاملات پر270سےزائدسوالوں کےجوابات قرآن وحديث کی ميں مفتی اعظم سعودی عرب ديئےہيں۔اُردوزبان ميں اپنی نوعيت کی پہلی اورمنفرکتاب ہےجس ميں روزمرہ زندگی ميں پيش آنےوالےبہت سےسوالات کاجواب موجودہے۔ -
سلام مسلمانوں سے صرف دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے دل کا یقین ٹھیک ہو، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا معبود، مسجود، مقصود، مشکل کشا اور حاجت روا نہ مانے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کی پوری زندگی حسن عمل کی آئینہ دار ہو، یعنی وہ ہر قسم کے شرک و بدعت سے بلکل پاک ہو، اور اُس کے ہر کام اور اقدام میں سنت رسول اللہ ﷺ کا نو چمک رہا ہو۔ امام ابن تیمیہ اسلام کی ان مایہ ناز ہستیوں میں سے ایک ہیں جو ہمارے دین ، ہمارے علوم، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کا وقار اور اعتبار تھے۔ انہوں نے ایک طرف تاتا ریوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور دوسری طرف اپنے علوم عالیہ سے مسلمانوں کی فکری صحت و سلامتی کا عظیم الشان کام انجام دیا اور طرح طرح کی فکری گمراہیوں اور بدعتوں کا سدِ باب کیا۔ امام موصوف کی معروف کتاب `اقتضاع الصراط المستقیم` ان کی انھی نادر خوبیوں کا مرقع ہے۔ یہ کتاب ایک طرف اللہ کی ذات عالی پر ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو ہر قسم کی فکری لغزشوں اور عملی گمراہیوں سے خبردار کر کے ان پر قران و سنت کی راہ روشن کردیتی ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر `دارالسلام` اسے اُردو کے قالب میں `فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے` کے عنوان سے پیش کر رہا ہے۔ زندگی کو صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔
-
شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں بےشمار خدمات انجام دیں۔ ماضی میں شیخ الاسلام محمد بن الوہاب کی اشاعت توحید کےسلسلے میں خدمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا اس بات پر اتفاق ہ کہ اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کے افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم نےاس کی شروحات بھی لکھی ہیں اور کئی علماء نے اس کتاب کےمتعد د زبانوں میں ترجمہ بھی کیا ہے۔اردو زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے جسے سعودی حکومت اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں شائع کر کے فری تقسیم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’غایۃ المرید فی شرح کتاب التوحید‘‘ بھی کتاب التوحید کی ایک عربی شرح کا ترجمہ ہے۔ یہ شرح سعودی عرب کی اہم شخصیت شیخ صالح بن عبد العزیز بن محمد ابراہیم اٰل الشیخ کی تحریر کردہ ہے -
یقیناً قیامت بہت بڑی حقیقت ہے جو ارشاد ربانی کے مطابق واقع ہو کر رہے گی۔ اس دن سب انسان دوبارہ زندہ کردیئے جائیں گے۔ پھر سب کشاں کشاں آئیں گے اور حشر کے ہجوم و ہیجان میں اپنے اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ زیرِ نظر کتاب اسی حقیقت عظمیٰ کی یاد دہانی اور فکر آخرت کے لیے لکھی گئی ہے اس میں قران کریم اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا دن کیسا ہوگا؟ اس دن کتنی زبردست وحشت، گھبراہٹ اور ہولناکی چھائی ہوئی ہوگی؟ لوگ پلِ صراط سے کس طرح گزریں گے۔ جنتی لوگ کتنے خوش و خرم ہوں گے اور کافروں ، مشرکوں اور بدکاروں کا کیا انجام ہوگا۔ اس کتاب میں قیامت کے دن رسوائی سے بچنے اور جنت میں جانے کے آسان طریقے بتائے گئے ہیں۔ ہر مسلمان بہن بھائی کو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
-
عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے- -
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں جہاں روحانی اور باطنی بیماریوں کے حل تجویز فرمائے وہیں جسمانی اور ظاہری امراض کے لیے بھی اس قدر آسان اور نفع بخش ہدایات دیں کہ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن ان سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی۔ زیر نظر کتاب حافظ ابن قیم کی شہرہ آفاق تصنیف ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ کے ایک باب ’الطب النبوی‘ کا علیحدہ حصہ ہے جسے ایک کتاب کی شکل میں الگ سے طبع کیا گیا ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ دعا اور دوا کے سلسلے میں افراط کا شکار ہیں لیکن یہ دونوں نقطہ ہائے نظر تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے میل نہیں کھاتے بیماری کے علاج کے لیے دعا اور دوا دونوں از بس ضروی ہیں۔ -
کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔ اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
`شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید محسوس کریں گے۔ -
Attainment of the Happiness is a most valuable book on the topic of Islamic Monotheism. The very accomplished author of this book was very well-known Islamic scholar and jurist of the present day. Shaykh Salaah Al-Budair has chosen the ahadeeth in this book with due care and diligence. In order to compile thses ahadeeth, he has very meticulously studied almost the entire stock of hadith literature available. Like an expert gems dealer, Shaykh Salaah has chosen only those hadith for the purpose of explaining a particular topic, which were the most relevant in terms of their meanings and context. For this purpose, on some occasions a single hadith has been taken from many different books of Hadith. -
کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔ -
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
زندگی کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کس لیے ہے؟ اور اس کا انجام کیا ہے؟ آج کی دلکش مادی اور مصروف زندگی میں ان سوالات پر غور کرنے کی مہلت شاذ ہی نصیب ہوتی ہے۔ محترم ام منیب نے زیرِ نظر کتاب `دنیا کے اے مسافر!` میں انھی اہم ترین سوالوں کا ہمہ جہت جائزہ لیا ہے۔ موصوفہ نے قران کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں زندگی کا اصل مقصد بڑی خوبی سے اُجاگر کیا ہے۔ انھوں نے دعوت دی ہے کہ اے فانی لذ توں پر مرنے والے انسان! اپنا مرتبہ پہچان۔ تجھے اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے، تو غیر کا متوالا نہ بن ، صرف اللہ رب العزت سے پیار کر۔ اُسی کا ہو جا۔ ہر آن، ہر گھڑی نیکی کی شمعیں روشن کرتا رہ تا کہ جب موت آئے تو تیرا دامن اعمال صالحہ سے مالا مال ہوا اور رب کریم تجھ سے خوش ہو کر تجھے اپنے جوار پاک میں جگہ دے۔ یہ کتاب ہر مسلمان کو پڑھنی چاہیے۔ اس کتاب کی پاکیزہ تعلیمات پر جو بھی اخلاص سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اسے ابدی عزت و عظمت کا تاج پہنا دے گا۔ -
خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتا ہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ‘‘اور نبی ﷺنے فرمایا ’’نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ‘‘ فرمان نبوی ﷺ کے مطابق جب قیامت قریب آجائےگی تو مسلمان کا کوئی خواب غلط ثابت نہیں ہوگا۔ ان میں سے سب سےسچے خواب دیکھنے والا وہ شخص ہوگا جو سب سےزیادہ سچ بولتا ہوگا۔ مسنداحمد میں ہے آپ ﷺ نےفرمایا کہ میرے بعدصرف مبشّرات باقی رہ جائیں گی۔صحابہ نےعرض کی: اے اللہ کے رسول ! مبشرات کیا ہیں تو آپﷺ نےفرمایا: اچھا خواب جومسلمان دیکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نماز فجر کےبعد صحابہ کرام کے خواب سنتے اوران کی تعبیر فرماتے۔ سیدنا یوسف کا خواب اوراس کی تعبیر اوران کی خوابوں کی تعبیر سیکھنے کےمتعلق دعا کا ذکر اللہ تعالیٰ نےقرآن مجیدمیں کیا ہے۔خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خوابوں کی تعبیریں‘‘ آٹھویں صدی ہجری کے مایۂ ناز عالم امام محمد بن عبد اللہ بن راشد کی شاہکار کتاب ’’المرتبۃ العلیا فی تعبیر الرؤیا‘‘ کا اردوترجمہ ہے۔ خواب کیا ہے؟ اس کی کتنی اقسام ہیں؟ خواب آئے تو کیاکرناچاہیے؟ اورعلم تعبیر کیا ہے؟ اوریہ کس قدر وسیع علم ہے ؟مذکورہ تما م بحثیں کتاب ہذا میں موجود ہیں۔ یہ کتاب جہاں خواب دیکھنے والوں کے لیے عمدہ کاوش ہے وہاں علم تعبیر کاشغف رکھنے والوں کےلیے بھی ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ مصنف کتاب نے اسے 17 ابواب میں تقسیم کیا ہے اور پھران ابواب کی سیکڑوں ذیلی سرخیوں کے تحت ہزاروں خوابوں کی تعبیریں بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو عربی اردو قالب میں ڈھالنے کا کام محمد واصف مرحوم نے شروع کیا تھا اس کام کی تکمیل نہ ہوئی تھی کہ موصوف زندگی 37 بہاریں گزار کر اسی عارضی جہاں سے رخصت ہوگئے۔ان کی وفات کےبعد فاضل نوجوان قمر حسن نے ترجمےکی تکمیل بھی کی اورتسہیل و نظرثانی کا کام بھی بڑی خوش اسلوبی سے نبہایاترجمے کا اسلوب عام فہم ، سادہ، دلچسپ اور سلیس ہے۔ اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے نفع مند بنائے ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے۔ حضرت عائشہ
-
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔
-
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔ -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’تربیت اولاد‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ میں شیخ موصوف نے تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔ یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے۔ -
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
`تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ -
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
بچوں کا ذہن سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جو لکھیں فوراً نقش ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں یاد کی ہوئی باتیں بڑھاپے تک محفوظ رہتی ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ کمسنی کی یاد کی ہوئی بات پتھر پر لکیر کی مانند ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کی یہ عمر انتہائی قیمتی ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اسلامی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور آداب و معاملات سے انھیں آگاہ کریں تا کہ بچپن ہی میں یہ تعلیمات ان کے قلوب و اذہان میں راسخ ہو جائیں اور وہ بڑے ہو کر سکہ بند مسلمان بنیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیں۔ یقیناً اس کے لیے ایسے لٹریچر کی ضرورت ہے جو بچوں کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر عام فہم اسلوب میں تیار کیا گیا ہو۔ ارکان اسلام اس ضرورت کی تکمیل کی سعی جمیل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ سچا اور باکردار مسلمان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
-
مصنف نے اپنی کتاب کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے -
یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-
-
دین اسلام پر مخالفین اپنے اوچھے ہتھیاروں سے انتہائی رکیک حملے کر رہے ہیں۔ اس بنا پر آج اسلام کے امتیازی اوصاف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ اسلامی علوم کی معروف شخصیت شیخ عبداللہ بن محمد صالح المعتاز نے عصر حاضر کی اس اہم ضرورت کا ادراک و احساس کرتے ہوئے `اسلام کی امتیازی خوبیاں` تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں نہایت نفیس انداز میں دین حق کی منفرد خوبیاں بیان کی گئی ہیں تا کہ کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کا حسن قاری کے دل میں اتر جائے۔ یہ کتاب عربی سے آسان ، سلیس اور دلکش اردو زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کی گئی ہے۔ چونکہ صاحب کتاب اسلام کی دعوت کا درد دل میں رکھتے ہیں، اس لیے ان کا انداز بیان کتاب کے ایک ایک لفظ کو قاری کے دل میں اتارنے کا باعث بنے گا۔ دنیوی و اخروی نجات کا متمنی جو شخص خلوص دل سے یہ کتاب پڑھے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی تمنا پوری ہوگی، مگر مطالعے کا مقصد محض مطالعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کتاب میں مندرج تعلیمات و ہدایات پر عمل کا بنیادی تقاضا پورا کرنا شرط لازم ہے۔ -
جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔
-
لعزت نے اسلام کی راہ روشن کردی ہے۔ پس تم اسلام کے سایہ رحمت میں آجاؤ۔ فی زمانہ اسلام کی تبلیغ و ترجمانی کی عزت جن علمائے حق کے حصے میں آئی ہے، ان میں بھارت کے نامور سکالر ڈاکٹرذاکر عبدالکریم نائیک کی شخصیت بہت نمایاں ہے۔ چاند پر خاک ڈالنے کی کوشش کی جائے تو وہ اپنے ہی منہ پر آ گرتی ہے۔ غیر مسلموں نے اسلام پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی۔ڈاکٹر صاحب نے ان کے مدلل اور مسکت جوابات دیے ہیں اور انھیں اسی راہ پر چلنے کی دعوت دی ہے جس کی طرف قران کریم 14 صدیوں سے بلا رہا ہے۔ دارالسلام سوال و جواب کے یہ بے مثل مجموعہ کو دنیا بھر میں اسلام کی حقانیت عام کرنے کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب خود بھی پڑھیے اور اسے زیادہ سے زیادہ تعداد میں غیر مسلموں تک بھی پہنچایئے۔ یہ کتاب پڑھ کر اگر ایک غیر مسلم کے قدم بھی اسلام کی راہ پر لگ گئے تو یہی ننھا سا عمل آپ کے لیے جنت کی ضمانت بن جائے گا۔
-
اسلام واحد سچا اور خالص دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے چُنا ہے مگر اہلِ باطل کا وتیرہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹے نظریات کو فروغ دینے کے لیے اسلام کے بارے میں مسلسل منفی پروپیگنڈہ کرتے چلے آرہے ہیں جس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی گنا تیزی آگئی ہے۔ ان حالات میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات جدید اسلوب اور جدید زبان میں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں اور کتاب و سنت کے ان بیانات و مباحث کو دنیا کے سامنے رکھا جائے جن کی چودہ سو سال بعد سائنس من و عن تصدیق و توثیق کر رہی ہے۔ اس متنوع اور جامع علمی مواد کی حامل کتاب میں اسلام کے مختصر تعارف، سیرتِ رسول ﷺ کے چند پہلو، مسلماونوں کے علمی کارنامے اور بعض غیر مسلموں کے قبولِ اسلام کے ایمان افروز واقعات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک غیر مسلم اسلام میں داخل ہو سکتا ہے۔ -
`اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔