Home/Darussalam Publishers
  • بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے
  • یہ کتاب زیادہ بڑی نہیں۔ عام لوگوں کے لیے ہے۔عام فہم ہے وہ لوگ جو رمضان میں اپنی زندگی میں انقلاب لانا چاہتے ہیں ؛بلاشبہ رمضان ان کی زندگی کو نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔یہ ایک روزنامچہ ہے۔رمضان میں ہم ہر روز ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ یہ تہیہ کرسکتے ہیں کہ ہمیں آج کیا کام کرنا ہے۔ تھوڑی سی محنت ، تھوڑی سی جدوجہد اور عزم و ارادہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
  • آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔

  • دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔

  • Khubsurat Masajid

     1,375
    مسجد مسلمانوں کا شعار ہے۔اس کتاب کے ذریعے آپ کو دنیا کی بہت سی خوبصورت ترین مساجد کی سیر کا موقع میسر آئے گا اور ساتھ ساتھ  یہ کتاب اللہ کے گھروں کے ساتھ محبت میں اضافہ کا باعث بنے گی۔
  • محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے خواتین پر عظیم احسان فرمایا۔ انھیں قعر مذلت سے نکال کر گھر کی ملکہ بنایا۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو اتنی عظمت بخشی کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ بہن کی دلجوئی اور قدر شناسی کا سبق دیا اور بیٹی کو شفقت و مرحمت کا مرجع بنا دیا۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت کی عظیم اور اس کے حقوق کی پاسبانی کا وہ سبق بھلا دیا جس کی تعلیم اسلام نے التزام کے ساتھ دی ہے۔ یہ کتاب اسی سبق کی یاد دہانی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا کیا درجہ ہے۔ ایک مسلمان مرد کو کن اوصاف کی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ بیوی سے کتنی نرمی اور نوازش سے رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ ناچاقی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ نکاح، مہر، خلع، طلاق اور عدت کے احکام کیا ہیں۔ حلالہ کتنی گھناؤنی لعنت ہے۔ بیوائیں کیسے حسن سلوک کی مستحق ہیں اور خواتین کو وراثت میں کتنا حصہ ملنا چاہیے۔ فی الجملہ یہ کتاب ایک مسلمان خاتون کے حقوق و فرائض کی مکمل دستاویز ہے۔ معاشرے میں عصمت و طہارت کے تحفظ اور پاکیزگی کا نور پھیلانے کے لیے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے  ۔

  • اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس  کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔
  •  خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی دعوتِ توحید نے ایک دوسرے کے دشمن عرب قبائل کو متحد کر کے ساری دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ پھر صدیوں کی گردشوں کے بعد ایسا زوال آیاکہ مسلمان دنیا طلب اور راحت کو ش بن گئے۔ قران و سنت کی صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے۔ تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئے ۔ شرک و بدعت کی خندق میں گر گئے۔ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہوگئی ارو وہ وحدہ لا شریک کی بجائے قبروں اور آستانوں کو پوجنے لگے۔ رحمت پروردگار پھر جوش میں آئی۔ باروہیں صدی ہجری میں سرزمین عرب ہی میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسا فدائی پیدا ہوا جس نے اپنے ایمان و یقین ، سوز باطن اور عمل پیہم سے قبروں اور آستانوں پر جھکی ہوئی پیشانیوں کو اٹھایا اور توحید ربانی کا درس دے کر ان کی مردہ رگوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ توحید کے اس فدائی، رسول اللہ ﷺ کے شیدائی اور دین قیم کے اس سپاہی کو دنیا امام محمد بن عبدالوہاب کے نام نامی سے جانتی ہے۔ یہ کتاب اسی جلیل القدر ہستی کے سوزِ باطن، فکر و نظر اور دعوت و تبلیغ کی سر گزشت ہے۔ امام موصوف کی دعوتِ توحید کو قبول عامہ نصیب ہوا تو سامراجی طاقتیں اور ان کے پٹھو علمائے سو چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت حق کو بدنام کرنے کے لیے اسے `تحریکِ وہابیت` کہنا شروع کردیا۔ فاضل مصنف نے مستند تاریخی حوالوںاور محکم دلائل و براہین سے اس تہمت کا پول کھول دیا ہے اور یہ حقیقت اجا گر کردی ہے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ شرک و بدعت سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف قران و سنت کی طرف پلٹ آئے۔ یہ کتاب توجہ سے پڑھیے۔ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے تاریخ آپ کے روبرو سانس لے رہی ہے۔
  • انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں   عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس ﷩ کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے
  • پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات،  مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔

  • پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے    نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن  وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی

  • Islam Ki Imtiyazi Khobiyaan

     250
     دین اسلام پر مخالفین اپنے اوچھے ہتھیاروں سے انتہائی رکیک حملے کر رہے ہیں۔ اس بنا پر آج اسلام کے امتیازی اوصاف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ اسلامی علوم کی معروف شخصیت شیخ عبداللہ بن محمد صالح المعتاز نے عصر حاضر کی اس اہم ضرورت کا ادراک و احساس کرتے ہوئے `اسلام کی امتیازی خوبیاں` تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں نہایت نفیس انداز میں دین حق کی منفرد خوبیاں بیان کی گئی ہیں تا کہ کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کا حسن قاری کے دل میں اتر جائے۔ یہ کتاب عربی سے آسان ، سلیس اور دلکش اردو زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کی گئی ہے۔ چونکہ صاحب کتاب اسلام کی دعوت کا درد دل میں رکھتے ہیں، اس لیے ان کا انداز بیان کتاب کے ایک ایک لفظ کو قاری کے دل میں اتارنے کا باعث بنے گا۔ دنیوی و اخروی نجات کا متمنی جو شخص خلوص دل سے یہ کتاب پڑھے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی تمنا پوری ہوگی، مگر مطالعے کا مقصد محض مطالعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کتاب میں مندرج تعلیمات و ہدایات پر عمل کا بنیادی تقاضا پورا کرنا شرط لازم ہے۔
  • Islam ki Sachayi aur Science k Aitrafaat

     450
     اسلام واحد سچا اور خالص دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے چُنا ہے مگر اہلِ باطل کا وتیرہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹے نظریات کو فروغ دینے کے لیے اسلام کے بارے میں مسلسل منفی پروپیگنڈہ کرتے چلے آرہے ہیں جس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی گنا تیزی آگئی ہے۔ ان حالات میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات جدید اسلوب اور جدید زبان میں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں اور کتاب و سنت کے ان بیانات و مباحث کو دنیا کے سامنے رکھا جائے جن کی چودہ سو سال بعد سائنس من و عن تصدیق و توثیق کر رہی ہے۔ اس متنوع اور جامع علمی مواد کی حامل کتاب میں اسلام کے مختصر تعارف، سیرتِ رسول ﷺ کے چند پہلو، مسلماونوں کے علمی کارنامے اور بعض غیر مسلموں کے قبولِ اسلام کے ایمان افروز واقعات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک غیر مسلم اسلام میں داخل ہو سکتا ہے۔
  • خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے
  •    اگر آپ ایک خوب سیرت مسلمان بننا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ توجہ سے فرمایئے کہ اس میں احادیث کی روشنی میں اسلامی آداب و احکام کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ ایک ایمان کا حامل دل فوراً اُن آداب کو اپنا کر اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کا اُمیدوار بن جاتا ہے۔
  •  نبی ﷺ پر درود و سلام ` اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺ سے محبت اور والہانہ تعلق و وابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی۔ لیکن وہ درود و سلام کون سا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور جو محبت رسول ﷺ کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ زیرِ نظر کتاب اسی موضوع پر منفرد اور نہایت اہم کتاب ہے جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں صلوٰۃ و سلام کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو ہے۔ جیسا کہ امام ابن القیم ؒ کا اسلوب ہے جو اہلِ علم میں معروف ہے۔
  • Aab e Hayat

     1,820
    دنیا میں انسان مختلف طبیعتوں کے مالک ہیں، اور ان کے پیشے ، کاروبار اور مصروفیات مختلف ہیں۔ہر انسان چاہتا ہے کہ کامیاب ہو، خوب ترقی کرلے، آگے بڑھے، اس کی دشواریاں دور ہوں، بھرپور عزت واحترام ملے، اس کے ساتھ بہترین سلوک اور نمایاں رویّے سے پیش آیا جائے، اس کی صحت اچھی رہے، اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو، اور یہ کہ ساری چیزیں اپنے آپ ہوجائیں اور خود اسے کچھ کرنا نہ پڑے۔کیا ایسی کامیابی اور ترقی کو جس کے لیے خود انسان کو اپنے لیے کچھ کرنا نہ پڑے، خواب کے سوا اور کوئی نام دیا جاسکتا ہے؟کامیابی کا راستہ بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ کامیابی کے سفر میں آپ کو پریشانیاں، دقتیں اور مشکلات برداشت کرناپڑتی ہیں۔ لیکن آخر میں ہرے بھرے باغ انہیں کو ملتے ہیں جو سچی لگن سے محنت کرتے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا راستہ بناتے ہیں۔ہر انسان اپنے معیار کے مطابق کامیابی کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب` آب حیات`  کہنہ مشق صحافی محترم محمد یحیی  خان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اپنے مشاہدات، لوگوں سے ڈیلنگ اور اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نوجوان نسل کو کامیاب زندگی گزانے کے آفاقی  اصول اور گر سکھلائے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو تمام میدانوں میں کامیاب فرمائے اور ان کی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو بہترین بنا دے۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے جہنم سے بچا لیا جائے اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔اللہ تعالی  ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور ہم سب کی مغفرت فرمائے
  • جو قوم اپنی خصوصیات اور روایات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ مسلمان دنیا کی امامت و قیادت کے لیے پیدا ہوئے تھےمگر یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو قوم انسانیت کی قیادت پر مامور کی گئی تھی، وہ خود ترغیبات نفس  کے جال میں پھنس کر اپنی مایہ ناز روایات بھلا بیٹھی  اور مغربی تہذیب کی نقالی میں ڈوب گئی۔ نتیجہ ظاہر کہ آج مسلمان دنیا کی تگ و دو میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہر جگہ اپنے زوال کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ارکان اسلام و ایمان میں دین قیم کا خلاصہ آسان اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی سچی بندگی کی دعوت دی ہے اور کفر، شرک اور بدعت کی ہلاتکوں اور نئی تہذیب کی قباحتوں سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دین کی تما م بنیادی تعلیمات عام فہم اسلوب میں قلم بندد کر کے مسلمان کو دعوت عمل دی گئی ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ دین کی تفہیم ،ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے بغیر  ہماری کامیابی  کا کوئی امکان نہیں۔ یہ کتاب خوب بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔

  • This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects.
  • سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر   حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ   صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے   بے حد مفید ہے
  • This book is a compilation of various memorable tours and trips of my life that includes Kingdom of Saudi Arabia, Urdan, Nigeria, Africa, China, Italy, Spain, France and many others. I have used very simple and imaginary language so that you may imagine yourself wandering around in these countries. If you ora ny of your loved ones is planning to visit these coiuntries then this book is going to help you alot.
  • ۔مختلف اوقات اور مہینوں کو منحوس قرار دینا تعلیمات اسلامیہ سے دوری کا نتیجہ اور باطل نظریات کا شاخسانہ ہے ۔کتاب وسنت میں مختلف مہینوں کے فضائل ومناقب بیان ہیں۔جو کتب احادیث میں منتشر تھے انہیں کسی دستاویزی شکل میں یک جا کرنے کی ضرورت تھی ۔پھر مختلف مہینوں میں مختلف بدعات مروج ہیں اور عامتہ الناس اسے دین سمجھ کر طلب ثواب کی نیت سے ان پر عمل پیرا ہیں۔زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف ماہر محقق ،معروف قلمقار اور جید عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اسلامی مہینوں کے فضائل ومسائل بیان کرنے کے بعد ان مہینوں کی مروجہ بدعات کا اچھے طریقے سے پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔یہ کتاب خطبا ،علما اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے اور اسلامی مہینوں کے حوالے سے عوام میں پھیلی مختلف بدعات کا تریاک بھی ہیں۔کتاب کی اشاعت وطباعت اور سرورق کا حسن دارالسلام ادارہ کے ذوق طباعت کا آئینہ دار ہے
  • قرآن حکیم سرچشمہ رشدوہدایت اور منبع خیر وبرکت ہے،یوں تو دینی راہنمائی ،دین اسلام کی حقانیت ،توحیدکے بیان اور کفر و شرک کے ابطال کےلیے پورا قرآن ہی مجسم ہدایت ہے،لیکن عقائد کی اصلاح، جنت کی ترغیب ،روز قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم سے ترہیب تیسویں پارے میں زیادہ بیان ہوئی ہے ۔نیزاس پارہ میں تزکیہ نفس اور اصلاح نفس پر زیادہ زور دیا گیاہے ۔اختصاروجامعیت کے اعتبار سے بھی یہ پارہ خاص اہمیت کا حامل ہے ،اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ دار السلام نے اس پارہ کو الگ جلد میں شائع کیاہے تاکہ عوام الناس میں قرآن پڑھنے کاذوق اجاگر ہو اور وہ قرآنی تعلیمات سے کما حقہ بہرہ مند ہوسکیں
  • زیر مطالعہ کتاب بھی مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کی دیگر کتب کی طرح سبق آموز اور دلچسپ داستانوں پر مشتمل ہے- مولانا نے کہانی کے انداز میں زندگی کی اٹل حقیقتیں جچے تلے لفظوں میں بیان کر دی ہیں-ایک مرد مؤمن فقط احکام الہی کا پابند اور محمد  ﷺ کا پیروکار ہوتا ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت مؤمن کے ایمان کو شکست نہیں دے سکتی- یہ نظارہ دیکھنا ہو تو لشکر اسامہ کی روانگی کے زیر عنوان حضرت ابوبکر کی استقامت ملاحظہ فرمائیں- حضرت عمر بن عبدالعزیز کے احوال پڑھ کر اسلام کے طریق سیاست وحکومت سے آگاہ ہوں- قرآن کریم کی اثر آفرینی ملاحظہ کرنی ہو تو حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ کا واقعہ پڑھئے- ایک مسلمان کا شباب اسلام کے لیے کس حد تک کار آمد ثابت ہوسکتا ہے اس کی تفصیل جاننی ہو تو کتاب میں موجود عمیر بن حمام، اسامہ بن زید اور طارق بن زیاد کی سیرت ملاحظہ فرمائیے-کتاب میں جہاں آپ کو سعید بن جبیر اور امام احمد بن حنبل کی دلکش سیرت کے جلوے نظر آئیں گے وہیں حضرت عثمان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارنے والے انجام بھی دیکھنے کو ملے گا- مختصرا یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جس کے مطالعے سے دل ودماغ کے بند دریچے کھلتے ہوئے نظر آئیں گے
  • چونکہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، فقہائے کرام اور سلف صالحین کی  زندگی امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت محسوس  کی جارہی تھی کہ ان تابندہ ستاروں کی زندگی کے درخشاں واقعات کو اختصار کے ساتھ یکجا کیا جا سکے- زیر مطالعہ کتاب میں عبدالمالک مجاہد نے اسلامی تاریخ کے انہی چنیدہ ستاروں کے  واقعات احاطہ تحریر میں لائے ہیں- مصنف نے سیرت رسول ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین  اور اس کے بعد ترتیب وار سلف صالحین اور نامور سلاطین کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا ہے کتاب میں ذکر کردہ مصادر صحیح اور مستند ہیں- اسلاف کے تفقہ، رسوخ فی العلم، تواضع، ایثار اور اعلائے کلمۃ الحق کے یہ واقعات ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے گرانقدر راہنمائی فراہم کرتے ہیں

Title

Go to Top