Home/Darussalam Publishers
  •  دعا ایک مسلمان اور اُسکے رب کے درمیان گفتگو کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ نے کود قران پاک میں فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ زیرِ نظر کتاب اُن تمام دعاوں کا مجموعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قران مجید یا اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے سکھائیں اور جن کے الفاظ رَبَّنا کے خوبصورت لفظوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھیے اور اپنے رب سے دعا مانگنے کا وہ طریقہ سیکھیئے جو خود رب اور اُسکے رسول ﷺ نے سیکھایا ہے۔

  • بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے
  • نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion.
  • عالم اسلام کے معروف اور مایہ ناز سیرت نگار دکتور علی محمد محمد الصلابی نے زیرِ نظر کتاب میں حضرت عمر فاروق ؒ کی سیرت کو نہایت ہی خوب سیرت پیرائے میں بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اُس سنہرے دور کا نقشہ بھی کھینچہ ہے جس میں حضرت عمر نے اسلام کی بہترین خدمت کی۔ We are living in tumultuous times, but they are no less tumultuous than the era of Caliph `Omar Ibn al-Khattab (May Allah be pleased with him), whose life began in Jahiliyah and ended in the Golden Age of Islam. We can learn much from the history of this second caliph of Islam, who was faced with unprecedented challenges but met them successfully within the framework of shari`a and in accordance with the true spirit of Islam. For those who would be leaders, this book offers the model of an ideal Muslim leader, one who felt responsible before Allah for the well-being of all those under his rile, including his troops, women, infants, non-Muslims, and even animals. Caliph Omar was a `hands-on` leader who kept himself informed and consulted scholars and experts before every major decision. For the rest of us, this book offers a window into an exciting and important period of Islamic history, and it also reminds of an important lesson, that our strength comes not from wealth or money or status, but from our submission to Allah and our commitment to the path of Islam.

  • ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت عثمان ذوالنورین ‘‘عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی خلیفۂ ثالث ، داماد رسول ، جامع قرآن ، پیکر حیا، سیدنا عثمان بن عفان کی سیرت پر مستند تصنیف ہے۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں عہد عثمانی کےتمام واقعات کومستند حوالوں سے بیان کیا ہے اور ان کےہر پہلو کانہایت احتیاط سےجائزہ لیا ہے۔اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عہد عثمانی کی نہایت اہم معلومات اجاگر کرنے والے 19 نادر نقشے شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور یہ کتا ب مسلمانوں میں سیدنا عثمان جیسی صفات جلیلہ پیدا کرنے کاباعث بنے
  • امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری   ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری  کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب   مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی  نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری  کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ   بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔
  • یہ سیرت انسائیکلو پیڈیا اس میں آپ عرب بلخصوس مکہ و مدینہ کی مستند تاریخ اور جغرافیہ ملاحظہ کریں گے، اہل عرب کی بود و باش اور ثقافت و تہذیب سے آشنا ہوں گے۔ عاد، ثمود، جرہم، طسم و جدیس جیسی مبغوض قوموں کی تباہی میں ہمارے لیے کیسے کیسے اسباق اور عبرتیں موجود ہیں؟ ان کا کامل مشاہدہ پائیں گے۔ ۔۔۔۔ اسی طرح آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگی کے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے کفر، شرک، اصنام اور اوہام کے کس قدر تاریک ظلمت زار میں کتنی دانائی اور دلیری سے اسلام کی فطری اور عالم گیر صداقت پیش کی۔

  • سیرت کے موضوع پر لکھی جانے والی ایک دلفریب کتاب۔ اس کتاب کے مطالعے سے آپ نہ صرف محبت رسول ﷺ میں اضافہ محسوس کرینگے بلکہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ بناتا بھی دیکھینگے۔ کتاب نہایت ہی آسان اسلوب اور دلکش انداز میں لکھی گئی ہے۔

  • In this book, the events of the Prophet`s life, from the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) was born and even before that day for background information-until the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) died, have been recorded. Beyond enumerating the events of the Prophet`s life, lessons and morals from those events have been drawn to point out the significance of an event and the wisdom behind the Prophet`s actions or deeds, the Islamic ruling that is derived from a particular incident, and the impact that a given event should have on our character or choice of deeds is indicated.
  • کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔
  • Attainment of the Happiness is a most valuable book on the topic of Islamic Monotheism. The very accomplished author of this book was very well-known Islamic scholar and jurist of the present day. Shaykh Salaah Al-Budair has chosen the ahadeeth in this book with due care and diligence. In order to compile thses ahadeeth, he has very meticulously studied almost the entire stock of hadith literature available. Like an expert gems dealer, Shaykh Salaah has chosen only those hadith for the purpose of explaining a particular topic, which were the most relevant in terms of their meanings and context. For this purpose, on some occasions a single hadith has been taken from many different books of Hadith.
  •   مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے رشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے۔
  •  ہماری زمین نظام ِ شمسی کا ایک ادنٰی حصہ ہے جبکہ سورج اس نظام کا مرکزی ستارہ ہے۔ یہ عظیم کُرہ روشنی اور گرمی کا بہت بڑا ما خذ ہے جس کے گرد زمین اور چان سمیت کئی سیارے محوِ گردش ہیں۔  سورج کی بناوٹ کے جو عناصر دریافت ہوئے ہیں، وہ سارے عناصر زمین پر بھی پائے جاتے ہیں۔ سورج میں بڑی تیز روشنی اور حرارت دینے والی گیسیں ہر آن جلتی رہتی ہیں۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے اہم سائنسی حقائق اس کتاب میں وحی کی روشنی اور کہانی کے دلکش پیرائے میں بتائے گئے ہیں۔ یوں طلبہ کے لیے یہ کتاب ضروری سائنسی اور دینی معلومات کابڑا خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس کے مطالعے سے دل و دماغ میں یہ اعلیٰ حقیقت پتھر پر لکیر کی طرح نقش ہوجاتی ہے کہ جس خالق و مالک نے سورج اور کائنات کے جملہ مظاہر پیدا کیے ہیں، وہ زبردست حکمت، قوت اور انتہائی اعلیٰ انتظامی قدرتوں کا مالک ہے۔ ذرے ذرے پر اسی کاقبضہ ہے۔ اس لیے ہمیں صرف اسی کی بندگی کرنی چاہیے۔
  •   `شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید  محسوس کریں گے۔
  • کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔  اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
  •  قران کریم میں جن حیوانات، نباتات، جمادات اور چرند پرند کا تذکرہ آیا ہے اُن میں سے مکھی کے بارے میں `عزم` کے عنوان سے یہ کتاب انھی چیزوں کے تعارف کی ایک آگہی بخش کڑی ہے۔ دارالسلام نے دلربا مطبوعات کا یہ سلسلہ طلبہ و طالبات کی خُفتہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے انھیں علم و تحقیق کی راہ پر لگانے کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ اور اس سلسلے کی دوسری دلآویز کتابیں اپنے نو نہالوں کو بطور تحفہ پیش کیجیے۔ اچھی سیرت سازی اور عمدہ ذہنی تربیت کے لیے، یہ بہترین تحفہ ہے۔
  • عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے-
  • شرعی  احکام اور مسائل دینیہ سے آگاہی  ہر مسلمان مرد اور عورت کی ضرورت ہے اور اس روحانی تشنگی کی سیرابی کے لیے شروع اسلام سے عامۃ الناس کی راہنمائی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سائلین کا خود تشفی بخش جواب دیتے ۔بعض اوقات مسائل کی پیچیدگیوں کی عقدہ  کشائی کے لیے  وحی کا نزول ہوتا ۔پھر صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور علماء و محدثین نے اس ذمہ داری کو نہایت اچھے انداز سے نبھایا۔ اگرچہ قدیم علماء کے فتاویٰ کافی تعداد میں  موجود ہیں لیکن ہر دور میں فتویٰ طلبی  اور نت نئے مسائل جنم لینے کی وجہ سے ایسے مسائل کی وضاحت کی اہمیت برقرار رہی بلکہ فتویٰ طلبی کی ضرورت او رافتاء کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔پاکستان  میں کئی جید علماء اپنے طور یاکسی جماعت کے پلیٹ فارم پر عوام الناس کے دینی مسائل کے جوابات قلمبند کر رہے ہیں اور کئی علماء کے فتاویٰ منصہ شہود پر آکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔لیکن زیر نظر فتاویٰ اسلامیہ کا اسلوب عام فتاویٰ سے جداگانہ ہے کیونکہ یہ فتاویٰ جات مختلف نامور عرب علماء کے ہیں کہ جن کی علمی حیثیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور عرب علماء کے پینل کے فتاویٰ میں علمی رسوخ اور پختگی تنہا عالم سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر عرب علماء کا  طریقہ استدلال انتہائی جانشین اور انداز بیان انتہائی شائستہ اور عام فہم ہے ایک عام قاری کو بھی ان فتاویٰ کے سمجھنے میں ذرا دقت نہیں ہوتی ۔پھر سونے پہ سہاگہ کہ  اس  کا ترجمہ نشرو اشاعت کے عالمی مسلمہ ادارے دارالسلام کی طرف سے کیاگیا ہے جس کی کتب کی طباعت و شستہ تحریر کے اپنے اور بے گانے سبھی معترف ہیں ۔ مترجم فتاویٰ چار جلدوں پر مشتمل ہے مترجم کی سلاست روانی قاری کو پریشان نہیں ہونے دیتی اور مترجم نے مفتیان کی تحریروں کی ایسی جاندار ترجمانی کی ہے کہ یہ ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔یہ کتاب علمی ،فنی ،تکنیکی ہر اعتبار سے بے مثال ہے جو زندگی کے تمام مسائل،عقائد،نظریات،عبادات ،آداب و معاشرت الغرض زندگی  میں پیش آمدہ مسائل کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے ۔لہذا صاحب استطاعت لوگوں اور علمی  ذوق کے حامل افراد کا اس کتاب کو خریدنا، گھر پر رکھنا اور زیر مطالعہ لانا از حد ضروری ہے ۔ اُمید ہے کہ فتاویٰ کے اس بہترین مجموعے سے علماء اور عوام دونوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔

  • اس وقت آپ کےپیش نظر ’فتاوی ارکان اسلام‘ ہے۔ اس میں عقائد و عبادات کے بارے میں مخصوص سوالات اورمشکلات کے ایسے جوابات فراہم کیے گئے ہیں، جن سے کتاب و سنت اور ادلہ شرعیہ کا مؤقف واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت شاندار ہے، اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا ایک خاص علمی اور تحقیقی ذوق محسوس کرے گا۔ عالم اسلام کے ممتاز محقق اور مفتی علامہ محمد بن صالح العثیمین کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ اور زہد و تقویٰ کی جیسی خوبیوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے فتاویٰ کی مختصر مگر جامع کتاب میں عقائد و عبادات پر عامۃ المسلمین کے اذہان میں پیدا ہونے والے تمام تر امکانی سوالوں کے ادلہ شرعیہ کی روشنی میں ایسے محکم، مدلل اور دلنشیں جوابات مرحمت فرمائےہیں کہ جن سے قلب ونظر کو طمانیت اور ذوق عمل میں یقین کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا محمد خالد سیف نے کیا ہے جو نہایت سلیس اور جاندار ہے اور کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ فتاوی جات اصل میں عربی میں تھے۔
  • Qiyamat

     170

      یقیناً قیامت بہت بڑی حقیقت ہے جو ارشاد ربانی کے مطابق واقع ہو کر رہے گی۔ اس دن سب انسان دوبارہ زندہ کردیئے جائیں گے۔ پھر سب کشاں کشاں آئیں گے اور حشر کے ہجوم و ہیجان میں اپنے اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ زیرِ نظر کتاب اسی حقیقت عظمیٰ کی یاد دہانی اور فکر آخرت کے لیے لکھی گئی ہے اس میں قران کریم اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا دن کیسا ہوگا؟ اس دن کتنی زبردست وحشت، گھبراہٹ اور ہولناکی چھائی ہوئی ہوگی؟ لوگ پلِ صراط سے کس طرح گزریں گے۔ جنتی لوگ کتنے خوش و خرم ہوں گے اور کافروں ، مشرکوں اور بدکاروں کا کیا انجام ہوگا۔ اس کتاب میں قیامت کے دن رسوائی سے بچنے اور جنت میں جانے کے آسان طریقے بتائے گئے ہیں۔ ہر مسلمان بہن بھائی کو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

  • رب ذوالجلال کا کلام دنیا کے تمام کلاموں سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس کے ماننے والوں کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے عزت و سرفرازی کا وعدہ فرمایا ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اللہ کی اس مضبوط رسی کو محکمی سے تھامے رکھا پوری کائنات پر ان کی فتح مندیوں کا پرچم لہراتا رہا اور جب اس مقدم کلام سے دوری بڑھی تو نہ صرف ان کا اوج ثریا پر پہنچا ہوا وقار خاک مین مل گیا بلکہ مسلمان معاشی لحاظ سے بھی انتہائی پسماندہ ہوگئے۔ جس کا دستِ بخشش رکوٰۃ لیے پھرتا تھا اور کوئی لینے کو تیار نہ ہوتا تھا آج وہی مسلمان قران سے بے رخی کے نتیجے میں دنیا بھر میں کشکول گدائی لیے پھر رہا ہے اور کوئی خیرات دینے کا روادار نہیں۔ مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کا واحد طریقہ یہی ہے کہ جس کلام کے ذریعے سے عزت ملی تھی اسے مضبوطی سے تھام لیا جائے۔ زیرِ نظر کتاب قران سے دائمی تعلق جوڑنے کے لیے ہی مرتب کی گئی ہے۔ اس میں قران کریم کے تمام حقوق و فضائل پوری شرح و بسط سے بیان کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں قران کریم سے متعلق وہ تمام ضروری فضائل و احکام وضاحت سے بتا دیے گئے ہیں جو آسمانی ادب کی اس آخری کتاب سے آپ کا تعلق مضبوط کر کے آپ کو دنیا و آخرت میں عزت کا تاج پہنا دیں گے۔
  • سلام مسلمانوں سے صرف دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے دل کا یقین ٹھیک ہو، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا معبود، مسجود، مقصود، مشکل کشا اور حاجت روا نہ مانے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کی پوری زندگی حسن عمل کی آئینہ دار ہو، یعنی وہ ہر قسم کے شرک و بدعت سے بلکل پاک ہو، اور اُس کے ہر کام اور اقدام میں سنت رسول اللہ ﷺ کا نو چمک رہا ہو۔ امام ابن تیمیہ اسلام کی ان مایہ ناز ہستیوں میں سے ایک ہیں جو ہمارے دین ، ہمارے علوم، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کا وقار اور اعتبار تھے۔ انہوں نے ایک طرف تاتا ریوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور دوسری طرف اپنے علوم عالیہ سے مسلمانوں کی فکری صحت و سلامتی کا عظیم الشان کام انجام دیا اور طرح طرح کی فکری گمراہیوں اور بدعتوں کا سدِ باب کیا۔ امام موصوف کی معروف کتاب `اقتضاع الصراط المستقیم` ان کی انھی نادر خوبیوں کا مرقع ہے۔ یہ کتاب ایک طرف اللہ کی ذات عالی پر ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو ہر قسم کی فکری لغزشوں اور عملی گمراہیوں سے خبردار کر کے ان پر قران و سنت کی راہ روشن کردیتی ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر `دارالسلام` اسے اُردو کے قالب میں `فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے` کے عنوان سے پیش کر رہا ہے۔ زندگی کو صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

  • اس  کتاب  ميں عقيدہ،قربانی،تصويروں،مجسموںمنتراورتعويذ،وضو،غسل،طہارت،اذان،نماز،زکوٰۃ،روزے،حج اوراس   سےمتعلقہ مسائل،سود، بينکوں کےمعاملات،وصيت،ميراث،نکاح،طلاق،پردہ،اطاعت والدين،غنا،موسيقی اورمعاشرتی زندگی سےمتعلق متفرق  معاملات پر270سےزائدسوالوں کےجوابات قرآن وحديث کی ميں مفتی اعظم سعودی عرب ديئےہيں۔اُردوزبان ميں اپنی نوعيت کی پہلی اورمنفرکتاب     ہےجس ميں روزمرہ زندگی ميں پيش  آنےوالےبہت سےسوالات کاجواب موجودہے۔
  •  قران مجید میں انبیائے کرام کے واقعات کے ضمن میں انبیاء کی دعاؤں اور ان کے آداب کا تذکرہ ہوا ہے۔ ان قرانی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لا کر کیا کیا مانگا کرتے تھے۔ انبیاء کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قران مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی دوسری آسمانی کتاب کے حصے مین بھی نہیں آتا۔  ان دعاؤں میں ندرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری رہنمائی کے لیے فراہم کر دیے گئے ہیں۔ قران مجید کی پیش کردہ یہ تمام دعائیں اپنے مکمل پس منظر کے ساتھ `قرانی دعائیں اور وظائف` میں پیش کردی گئی ہیں تا کہ ان دعاؤں کا مضمون سمجھ کر انسان دعا کرے اور ان کی شرفِ قبولیت کی سند حاصل کرے۔ افادیت کے پیشِ نظر جادو، آسیب اور جنات سے متعلقہ بیماریوں کا آسان قرانی علاج ذکر کرنے کے ساتھ `قرانی وظائف` کے عنوان سے اسلاف کے بعض آزمودہ وظائف بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔ بارگاہِ رب العلمین سے امید ہے کہ اس کتاب سے آپ کے خوابیدہ ارمان جاگ جائیں گے۔
  •   قرآن  مجید میں انبیاء کرام  کے واقعات  کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں اور ان کے آداب کا تذکرہ ہوا ہے ۔ ان قرآنی  دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے  برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا  لاکر  کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مید نے پیش کیا ہے یہ  اسلوب کسی آسمانی کتاب کے  حصے  میں بھی نہیں آتا ۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے  کہ   ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے  فراہم  کردیئے گئے  ہیں۔ زیرنظر کتاب’’قرآنی دعائیں اور وظائف‘‘ اسلامی کتب کی معاری طباعت کے عالمی ادارے  دار السلام  کے  ریسرچ سکالرز (طارق جاوید عارفی ، مفتی  عبد الولی خان ) کی کاوش ہے  ۔جس میں   قرآن مجیدکی  پیش  کردہ  تمام  دعائیں اپنے مکمل  پس منظر کے ساتھ   پیش کردی گئی ہیں۔ افادیت کے  پیش نظر جادو،آسیب، جنانت  سےمتعلقہ بیماریوں کا آسان قرآنی علاج ذکر کرنے کے ساتھ’’ قرآنی وظائف‘‘ کےعنوان سے اسلاف کے بعض آزمودہ وظائف بھی شامل کردیے گئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مرتبین اورناشرین کی اس کاوش کو  قبول فرمائے اور اسے عوام  الناس  کے لیے  مفید  بنائے
  • Learning how to recite the Quran is one of the fundamentals of being a Muslim, and Darussalam Publishers brings you “Qurani Qaida” which is designed to give your child a grasp on how to pronounce the Haroof e tahaji. A must in the fundamentals of learning Recitation of Quran! This Qurani Qaida will provide an improved learning experience with regional tajweed to make it easier for Muslims all over the World to Learn Islam. Your Child will be pronouncing Arabic Letters correctly as this qaida contains graphical illustrations of mouth to make special nodes and sounds!
  • ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء  ہیں ۔جن کا مقام عام انسانوں سے بلند ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قصص الانبیاء ‘‘  میں انبیاء کرام کےحالات کے لیے سب سے قرآنی آیات کو سامنے رکھا ہے اور۔ہر پیغمبر کےاحوال واقعات سے عبرت وموعظت کے جو پہلو نکلتے ہیں انہیں بطور خاص جگہ دی گئی ہے
  • قیام الیل ایک مسلمان کے لیے بہترین موقعہ ہے کہ وہ اپنے ربِ کریم کے حضور حاضر ہو اور اپنے رب سے باتیں کرے۔ رات کی خاموشی اور تنہائی میں جب بندہ اپنے رب کے حضور حاضری دیتا ہے تو اُسکا رب اُسے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ اس کتاب میں قیام الیل کے حوالے سے تمام تفصیلات بیان کی گئی ہیں نیز یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا طریقہ نماز کیا تھا اور آپ ﷺ کس قدر باقاعدگی سے قیام الیل کا اہتمام فرماتے تھے۔
  • تمام انبیاء کرام ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید مترجم ‘‘ امام محمد بن سلیمان التمیمی کی عقیدہ توحید پر تصنیف شدہ کتاب التوحید کااردو ترجمہ ہےاردو ترجمہ کی سعاد ابو عبداللہ محمد سورتی نے حاصل کی ۔کتاب وسنت سائٹ پرشیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی عقیدہ توحید پر مشہور کتاب کتاب التوحیداور اس موضوع پر دیگر کئی کتب موجود ہیں لیکن کتاب ہذا موجود نہ تھی لہذا فادۂ عام او راسے محفوظ کرنے کی خاطر اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔

  • دین وشریعت کی دعوت اور تفہیم کے لیے بلا مبالغہ لا کھوں کتابیں لکھی گئیں جن سے ہزاروں کتب خانے تیار ہوئے مگر قرآن مجید اور احادیث کے متون کے بعد جو قبولیت کتاب التوحید کو ملی ہے،وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت بن چکی ہے یہ کتاب بارہویں صدی ہجری کے مجدد کامل امام الدعوۃ محمد بن عبدالوھاب رحمۃاللہ علیہ کے قلم کا شاہکار ہے –ان کی متعدد کتب ورسائل میں یہ ایک گل سرسبد کی حیثیت رکھتی ہے-اس کے مطالعہ سے حقیقت توحید واضح ہوتی ہے عمل کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں اور شرک وبدعات کے جھاڑجھنکار ۔۔۔۔ توحید کیا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہیں؟اس کتاب کا مطالعہ دینی زندگی کے اس سب سے بڑے اور سنجیدہ سوال کا جواب فراہم کرتا ہے-اس کے مطالعہ سے اس موضوع سے متعلق جملہ اشکالات کا ازالہ ہو جاتا ہے دارالسلام نے اپنے منہج تحقیق کے مطابق بہت سے متون سے ایک مستند متن تیار کرایا، اس کے حوالوں کی تخریج کی اور اردو زبان کے شستہ پرائے اور شگفتہ اسلوب میں اسے قلم بند کیا-اس کتاب اور موضوع کا یہ حق ہے کہ اِسے خود پڑھا جائے اور دوسروں کو مطالعے کے لیے پیش کیا جائے
  • کتاب التوحد `کتاب التوحد` شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی وہ مایہ نازکتاب ہے جو ہر دورکے گمشتگان بادیہ ضلالت اورشرک و بدعت کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والوں لے لئے مینارہ نور ہے۔ لاکھوں لاگوں نے اس کتاب کے بدولت اپنے عقیدہ کو درست کیااور صراط مستقیم پر چلنے لگے تقویۃ الایمان `تقویۃالایمان` کا موضوع بھی توحید ہے۔اور زبان میں شاہ اسمعیل شہید رحمہ اللہ کی یہ کتاب محمولی پڑھے لکھے آدمی سے لے کر متبحرعالم دین تک سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ انداز بحث اور طرزا ستدلال سب سے نرالا اور سراسرمصلحانہ ہے،
  • Out of stock
    اس کتاب میں ’’جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے‘‘ حدیث کی فصل شرح بیان کی گئی ہے اور ساتھ میں ایک شرعی و تحقیقی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
  •   `اسلام کی نظر میں وضع کی درستی اصلاح قلب کا لازمی جزو ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ وضع درست ہو اور دل درست نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ دل درست ہو اور وضع پر اس کا کچھ اثر نہ پڑے۔ اصلاحِ وضع میں داڑھی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ داڑھی کا رکھنا دل کی ایمانی قوت کا اظہار ہے اور داڑھی منڈوانا دل کی کراہت و نیت کی خرابی کی علامت ہے۔ جس کا دل پاک صاف ہو، وہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ گنا ہ پر اصرار کرتے رہیں اور دل بھی صاف ہو؟ رسول اللہ ﷺ کی صورت مبارکہ یعنی داڑھی سے نفرت ہو اور روح بھی پاک ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے سخت تاکید فرمائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے۔ پس کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی اور نا فرمانی نہیں کر سکتا۔ اگر ہمیں اپنے آقا ﷺ سے محبت ہے تو ضروری ہے کہ ہم بھی اپنا چہرہ اس جیسا بنا لیں۔
  •  دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریہ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی ہے۔ اب تک کی معلومہ تاریخ میں کفر  و شرک کی طاقتیں اتنی گمراہ کن تہذیب اور اس قدر مہلت اسلحہ سے کبھی مسلح نہیں ہوئیں جتنی آج ہیں۔ ان حالات میں مسلمان خواتین کا کردار ہمیشہ سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یعنی وہ خود اسلامی تعلیمات کا عملی پیکر بنیں اور اپنے بچوں میں بھی مجاہد اسلام بننے کی تڑپ پیدا کریں۔ جب تک ہماری محترم خواتین اللہ رب العزت کی سچی بندگی کا نمونہ و نمائندہ نہیں بنیں گی، ہماری بستیاں جلتی رہیں گی، مسجدِ اقصیٰ فریاد کرتی رہے گی اور ہمارے ہاں کوئی محمد بن قاسم اور کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا۔ کامیاب مسلمان خاتون کی صفات کیا ہیں؟ اور ہماری محترم خواتین قرونِ اولیٰ کی عالی مقام خواتین جیسی ہستیاں کس طرح بن سکتی ہیں؟ یہ باتیں اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتا دی گئی ہیں۔ در حقیقت یہ کتاب اعلیٰ سیرت سازی کا جامع منشور ہے۔ ان شا اللہ ! اس کی بدولت ایمان اور حسن عمل کے چراغ دور دور تک روشن ہوتے چلاے جائیں گے۔

  • سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے
  • کتاب وسنت کا عالم اور احکام شریعت کو جاننے والا جب کسی پیش آمدہ مسئلہ میں شریعت کی روشنی میں کسی مسئلہ کا حل پیش کرتا ہے تو اسے فتوی کہتے ہیں ۔گویا کسی دینی احکام کے بارے میں دیئے جانے والے جواب کوفتوی اور جواب دینے والے کو مفتی کہتے ہیں۔زیر نظر کتاب سعودی عرب کے جلیل القدر عالم اور مفتی اکبر شیخ ابن باز کے فتاوی ومقالات اور تنبیہات ونصائح کا مجموعہ ہے ۔جس میں عقائد،عبادات ،معاملات پر شیخ کے دقیق مضامین کے علاوہ عصر حاضر سے متعلق مسائل کے بارے میں فتاوی ہیں۔شیخ کا کتاب وسنت سے براہ راست استنباط کا عمدہ اسلوب ،راست بازی اور اعتدال پسندی کی ضمانت ہے اور یہ وہی عقیدہ ہے جو امام کائنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھایا اور یہی عقیدہ دنیا وآخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔موجودہ دور میں جبکہ عقیدہ کے حوالے سے بے شمار غلط فہمیاں عوام میں رائج ہیں ،اس کتاب کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا۔
  • اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے ،جسے اللہ عزوجل نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ کے طور پر مقرر فرمایا ہے ۔اس میں دنیا وآخرت کی بھلائی اور کامیابی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں ۔دین اسلام کی یہ خوبی اسے دوسرے ادیان ومذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اس میں دنیا وآخرت ہر دو کی رعایت رکھی گئی ہے اور زندگی کے ہر پہلو سے متعلق کامل رہنمائی دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منہاج المسلم ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین علامہ ابوبکر جابر الجزائری کی تصنیف ہے ۔اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ مولانا سلطان محمد جلالپور ی﷫ کے تلمیذ خاص شیخ الحدیث مولانامحمد رفیق الاثری  نے کیا ۔اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں دلوں میں اترجانے والے بیش بہا اسباق چمک رہے ہیں ۔ زبان آسان ،عام فہم اور سادہ ہے ۔ عقائد ہوں یا عبادات کا بیان ، اخلاقیات کے مختلف پہلو ہوں یا اسلامی آداب وحقوق کا تذکرہ احکام ِتجارت ہوں یا معاشرتی معاملات، وراثت کے مسائل ہوں یا عائلی قوانین، قصاص ودیت کے اصول ہوں یا قضاء کےمسائل سبھی پر سیر جاصل بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب دین کی تعلیمات کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے ۔ لہذا ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے شب وروز اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کر سکیں اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں اور کامیابیوں سے بہرہ مند ہوسکیں ۔منہاج المسلم اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ہ ایڈیشن تحقیق وتخریج سے مزین ہے اس لیے اس ایڈیشن کوبھی پبلش کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے
  •   قران کریم میں 109 مرتبہ نماز پڑھنے کا ذکرِ جمیل آیا ہے حتی کہ خوف و جنگ کی حالت میں بھی نماز کے التزام کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کے اساسی رکن کی حیثیت سے نماز کس قدر زبردست اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے رسالت مآب ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جونہی بچے سات برس کے ہو جائیں انھیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور دس سال کے بچے نماز نہ پڑھیں تو انھیں سزا دو۔ نماز کی اسی ناگزیر ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ایک بہت خوبصورت کتاب `میری نماز` کے عنوان سے باتصویر شائع کی ہے۔ اس میں صحیح احادیث کی روشنی میں نماز کا مکمل اور مسنون طریقہ بذریعہ تصاویر اُجاگر کیا گیا ہے۔ اپنے پیارے پیارے بچوں کو یہ کتاب بطور تحفہ دیجیے۔ انھیں ابھی سے مسنون نماز پڑھنے کی عادت ڈالیے۔۔۔۔ یہ لا متناہی حسنات و برکات کے حصول کا یقینی طریقہ ہے۔
  • بیت االلہ اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت اور حج و عمرہ کا ارمان ہر صاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتا رہتا ہے۔ شرعی رہنمائی کے لیے حج و عمرہ اور مقدس مقامات کی زیارت کے احکام و مسائل کو آسان انداز میں بیان کرنے کے لیے دارلسلام نے `حج  و عمرہ گائیڈ بک` تیار کی ہے۔ جو مختصر ہونے کے ساتھ جامع بھی ہے۔ تفصیلی احکامات کے لیے دارلسلام `مسنون حج و عمرہ، احکام و مسائل` کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ اللہ کے فضل و احسان سے دارلسلام کتاب و سنت کی تحقیق و اشاعت کا عالمی ادارہ ہے جس نے گزشۃ 25 برسوں میں دنیا کی 24 زبانوں میں قرآن کا ترجمہ شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا، نیز اردو عربی، انگیزی، فرنچ، سپینش، ہندی، بنگالی، پشتو، فارسی اور سندھی کے علاوہ دیگر زبانوں میں 1500 سے زائد معیاری کتابیں شائع کی ہیں۔ سعودی عرب میں مکہ مکرمہ، جدہ، الریاض، الخبر کے علاوہ اس کی شاخیں تین براعظوں ایشیا، یورپ اور امریکہ میں قائم ہیں۔ قائین کرام سے گزارش ہے کہ حرمین میں عبادت کرتے وقت ادارہ دالسلام، اس کے منتظمین اور جملہ اراکیں کو خصوصی دعاوں میں ضرور شامل کریں۔ اللہ ہمیں خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ تو فیق عطافرمائے۔ آمین!
  • Human being is weak in nature. This lack of control on his desires makes him commit sins. The solution is to repent and ask Allah for forgiveness never to return to the path of darkness. In this way, Allah forgives his creation. Devil is the enemy of humans. He keeps provoking and tempting humans to commit sins and convinces them to not ask Allah for forgiveness and then comes a time when door of forgiveness closes and the man leaves for the eternal world. This book highlights such tactics that devil practices to lead a person astray and away from righteous path.
  •  `شیخ البانی ؒ اہلِ سنت میں سے ہیں، سنت کے داعیوں میں سے ہیں اور حفاظتِ سنت کے راستے پر گامزن مجاہدین میں سے ہیں۔۔۔ حدیث شریف کی صحیح ، ضعیف اور موضوع روایات کے امتیاز و بیان میں ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔۔۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا اللہ رب العزت کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کی علم حق، صحیح منہج اور علم حدیث کی طرف رہبری کی ہے اور بہت زیادہ نفع پہنچایا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اُنکی سوانح حیات ہے جو کہ خاص و عام سب کے لیے بے حد مفید ہے۔
  •  داڑھی رکھنے کے التزام کے لیے صرف اتنی دلیل ہی برہانِ قاطع کی حیثیت رکھتی ہے کہ داڑھی رکھنا ہمارے رہبرِ اعظم امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی سنت ہے۔ آپ ﷺ نے متعدد بار مونچھیں کٹوانے اور داڑھی کو معاف رکھنے کی تاکید فرمائی۔۔۔۔ آج ہمارے ہاں جو مغرب زدہ طبقہ داڑھی مونڈنے یا کاٹنے کی لولی لنگڑی دلیلیں دیتا ہے وہ فی الحقیقت اسلامی معاشرے کے ایک اہم شعار کی توہین کرتا ہے۔ فاضل مدینہ یونیورسٹی مولانا صہیب احمد میر محمدی صاحب نے ایسے لوگوں کی گمراہ کن باتوں کا قران و سنت کی روشنی میں نہایت مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔ انھوں نے اپنے مخصوص درد مندانہ لہجے اور عالمانہ اسلوب میں زور دیا ہے کہ ایمان کی بقاء و استحکام کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکام اور سنتِ رسول ﷺ کا التزام و احترام ہر مسلمان کا پہلا فوری فرض ہے۔

  •    نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی    ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’ نماز سے پہلے ‘‘ شیخ انس بن عبدالحمید القوز کی کاوش ہےاس کتابچہ کو تحریرکرنے کی غرض وغایت یہی ہے کہ جو مسلمان بھائی نماز نہیں پڑھتے وہ نماز پڑھیں اور اس کےبارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے آگاہ ہوں ۔ نیز وہ مسلمان بھائی جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت اور اس سے متعلق احکام سے ناواقف ہیں اور وہ حضرات جونماز کے ارکان وواجبات کی مشروع پابندی کواختیار نہیں کرتے بلکہ ایک حد تک اس کا علم ہی نہیں رکھتے وہ اس کتابچہ کے مطالعہ سے صحیح احادیث کی روشنی میں نماز کےفضائل ودرجات سے آگاہ ہوکر اس کی پابندی اختیار کریں۔
  •  کفارِ مکہ رسولِ مقبول ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے (نعوذباللہ)۔ چنانچہ اس بے ادبی کے جواب میں صحابہ کرام اور دیگر مسلمان شاعروں نے موثر طور پر آپ ﷺ کا دفاع کیا اور آپ ﷺ کے اوصافِ حمیدہ بیان کیے۔ نعت گوئی اس لسانی جہاد کی پیداوار ہے۔ مگر حیرانی کی بات ہے کہ برصغیر ہند و پاک میں ہندو کلچر کے زیر اثر بھجنوں اور گیتوں میں استعمال ہونے والے ہندی الفاظ، تلازمات اور مناسبات ، علائم و رموز اور تشبیہات و استعمارات کا استعمال بھی نعتیہ مضامین میں ہونے لگا یہاں تک کہ ہندی راگوں کی لے اور گیتوں کے انداز پر نعتیہ شاعری ہونے لگی۔۔۔۔۔ اور رفتہ رفتہ نوبت  ایں جا رسید کہ موجودہ عوامی نعتوں کا اکثر و بیشتر ذخیرہ فلمی گانوں کے زیرِ اثر لکھا، پڑھا اور موسیقی کے آلاتِ محرمات کے ساتھ ٹی۔ وی چینلوں پر گایا جانے لگا ہے۔ نیز صوتی آہنگ کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ۔۔۔اللہ ۔۔ کے الفاط کو غنائیت (Rhythm) کے طور پر مستعمل کر لیا گیا ہے، جو آدابِ نعت گوئی کے سرا سر خلاف ہے۔ جبکہ نعت اور اس کے آداب کا حقیقی نمونہ صحابہ کبار ، اہل بیت اطہار اور صلحائے اُمت کے عربی، فارسی اور اُردو نعتیہ کلام میں ملتا ہے، جس کا انتخاب اس کتاب میں موجود ہے۔ قارئین سے التماس مطالعہ ہے۔

  • قرآن کریم اللہ کہ وہ مقدس کتاب ہے جس کی خدمت باعثِ خیر وبرکت اور ذریعۂ بخشش ونجات ہے ۔یہی وجہ ہےکہ قرونِ اولیٰ سے عصر حاضر تک علماء ومشائخ کے علاوہ مسلم معاشرہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اصحاب بصیرت نے حصول برکت کی خاطر اس کی کسی نہ کسی صورت خدمت کی کوشش کی ہے ۔اہل علم نے اگر اس کے الفاظ ومعانی ،مفاہیم ومطالب ،تفسیر وتاویل ،قراءات ولہجات اور علوم قرآن کی صورت میں کام کیا ہے تو دانشوروں نے اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ،کاتبوں نے مختلف خطوط میں اس کی کتابت کی ،ادیبوں اور شاعروں نےاس کے محامد ومحاسن کواپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کی خدمت کی اور واعظوں اور خطیبوں نے اپنے وعظوں اور خطبات سے اس کی تعریف اس شان سے بیان کی کہ ہر مسلمان کا دل ا س کی تلاوت ومطالعہ   کی جانب مائل ہواا ور امت مسلمہ ہی نہیں غیر مسلم بھی اس کی جانب راغب ہوکر اس سے منسلک ہوگئے۔ بعض اہل علم وقلم نے اس کے موضوعات ومضامین پر قلم اٹھایا ااور بعض نے اس کی انڈیکسنگ اور اشاریہ بندی کی جانب توجہ کی ۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نورالقرآن‘‘ ڈاکٹر سہیل انجم صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ کی مشترکہ ایک منفرد کاوش ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبۂ زندگی کےلیے قرآنی تعلیمات کابڑا آسان اور جامع مجموعہ ہے۔فاضل مصنف نے صحیح دینی زندگی کےعنوانات ترتیب وار چنے ہیں ایمانیات، عبادات،اخلاقیات او رجملہ معاملات کےتحت 61 ابواب مقرر کیے ہیں اور ہرباب کی مناسبت سےقرآن کریم کی آیات درج کر کےان کی دلنشیں تشریح کی ہے۔یہ کتاب قرآنی مضامین اور حوالوں پر مشتمل ایک جامع کتاب ہے۔ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف  کی نظرثانی سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت مزید دو چند ہوگئی ہے
  • This is the Tafseer of the Glorious Qur’an which is brief in form but comprehensive in interpretation of the meanings of the Quran enlightened with the thoughts, viewpoints, creed and perception of Salaf Saliheen, and a humble effort to understand the Qur’an in the light of the authentic Ahadith of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and the sense of the Sahabah (May Allah be pleased with them all).
  • تفسیر احسن الکلام قران مجید کے آسان اور بہترین ترجمے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل تفسیر بھی ہے جو کہ مستند اور مقبول تفاسیر سے ماخوذ ہے۔ ان میں تفسیر ابن کثیر اور تفسیر قرطبی بھی شامل ہیں۔ دارالسلام کی طرف سے پیش کردہ اردو زبان میں یہ تفسیر ایک شاہکار ہے جس سے ہر مسلمان بھر پور فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ ہمیں قران مجید پڑھنے سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • This is the Tafseer of the Glorious Qur’an which is brief in form but comprehensive in interpretation of the meanings of the Quran enlightened with the thoughts, viewpoints, creed and perception of Salaf Saliheen, and a humble effort to understand the Qur’an in the light of the authentic Ahadiths of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and the sense of the Sahabah (May Allah be pleased with them all).
  •  تفسیر احسن الکلام قران مجید کے آسان اور بہترین ترجمے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل تفسیر بھی ہے جو کہ مستند اور مقبول تفاسیر سے ماخوذ ہے۔ ان میں تفسیر ابن کثیر اور تفسیر قرطبی بھی شامل ہیں۔ دارالسلام کی طرف سے پیش کردہ اردو زبان میں یہ تفسیر ایک شاہکار ہے جس سے ہر مسلمان بھر پور فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ ہمیں قران مجید پڑھنے سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • This is the Tafseer of the Glorious Qur’an which is brief in form but comprehensive in interpretation of the meanings of the Quran enlightened with the thoughts, viewpoints, creed and perception of Salaf Saliheen, and a humble effort to understand the Qur’an in the light of the authentic Ahadiths of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and the sense of the Sahabah (May Allah be pleased with them all).

Title

Go to Top