Home/Darussalam Publishers
  • Ae Meri Behan O My Sister

     1,320

    خانگی اور معاشرتی زندگی کا حسن بڑی حد تک عورت کے کردار پر موقوف ہے۔ عورت شرک سے بیزار اور وحدہ لاشریک کی پرستار ہوگی تو اس کی گود میں پلنے والے بچے بھی اللہ کے شیدائی، رسول ﷺ کے فدائی اور اسلام کے سپاہی بنیں گے۔ اس لحاظ سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عورت کی دینی تعلیم و تربیت کس قدر زبردست اہمیت کی حامل ہے۔ حقائق سے آگہی فوری اور ابدی خوشی کے حسول کا لازوال سر چشمہ ہے۔ یہ کتاب اُن اہم دینی </p>حقائق و معارف کا گلدستہ ہے جنھیں سیکھے بغیر کوئی خاتون اچھی سیرت سازی کے تقاضے پورے نہیں کر سکتی۔ یہ کتاب توہم پرستی سے بچنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے کا سبق دیتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ عورت کی شخصیت میں سچائی کی روح بولے گی تو اس کے سارے خاندان میں صداقت کا اُجالا پھیل جائے گا۔ یہ کتاب شوہر کے حقوق ومفادات کی نگہبانی اور اولاد کی تربیت کے گرُ سیکھاتی ہے۔اسے پڑھیے </p>اور اپنے خاندان کی محترم خواتین کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیجیے۔ ان شا ء اللہ ! اس کتاب کی تعلیمات سے آپ کا گھرانا گہواہ رحمت بن جائیگا۔

  • Inkaar e Hadith se Inkar e Quran Tk

     1,320
    قران کریم اور احادیث مقدسہ اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ جمایا تو انھوں نے اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے جن نام نہاد سکالروں کی کاشت کی، انھوں نے فتنہ انکارِ حدیث برپا کرنے کی مہم شروع کردی۔ الحمدللہ ! علمائے حق آگے بڑھے۔ انھوں نے قران و سنت کے روشن دلائل و براہین سے انگریزوں اور ان کے لے پالک دانشوروں کے سارے حربے بیکار کردیے اور یوں مسلمانوں کی متاعِ ایمان کو تباہ ہونے سے بچایا۔ ایسے علمائے کبار کی کہکشاں میں فاضل اجل مولانا عبدالسلام رستمی کا نام ایک نادر اضافہ ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں قران و حدیث اور تعامل صحابہ کی روشنی میں سر سید، اسلم جیراج پوری اور غلام احمد پرویز جیسے قلمکاروں کی گمراہ کن تحریروں اور دور ازکار تاویلوں کے بخیے اُدھیڑ دیے ہیں اور یہ حقیقت اچھی طرح اُجاگر کردی ہے کہ حدیث کا انکار در حقیقت قران کا انکار ہے۔ قران کے ساتھ ساتھ جب تک صحیح احادیث پرپوری طرح یقین اور عمل نہیں ہوگا، اس وقت تک ایمان کی لذت شناسی نصیب نہیں ہوگی۔ یہ کتاب اسی حقیقت کی ایمان افروز تفسیر اور حجیتِ حدیث کی دل آویز دستاویز ہے۔
  •   آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔  اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔
  •  پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے   اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔
  •    یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔
  •  انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔

  • Atlas Seerat Nabvi (PBUH)

     8,820
    پیغمبر آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت تو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے۔مکہ مکرمہ میں پرورش پائی اور 53برس تک یہیں رہے بعد ازاں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور عمر عزیز کے 10 سال یہاں بسر کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں سفر بھیکیے،صفر میں بھی رہے،حالت امن  میں بھی دن گزارے اور حالت جنگ میں بھی شب وروز بسر ہوئے۔اس تمام شرگزشت اور ریکارڈ کو سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا نام دیا جاتا ہے۔مختلف زبانوں میں سیرت نبوی پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جو قارئین کے مطالعے میں رہتی ہیں تاہم ان میں ایک تشنگی کا احساس رہتا ہے کہ مقامات واماکن کا نقشہ کتابوں میں نہیں ہوتا جس سے جگہوں کا صحیح تعارف نہیں ہو پاتا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے زیر نظر اٹلس مرتب کی ہے  جس میں سیرت کی وضاحت نقشوں سے کی گئی ہے ۔ان نقشوں میں تمام متعلقہ مقامات ،شہروں اور ان اطراف واکناف کی تفصیل سے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف فرمانی سے رونق بخشی یا جن کی طرف آپ نے قصدفرمایا۔اصل کتاب عربی میں تھی،جسے معروف اشاعتی ادارے دارالسلام نے اردو قالب میں ڈھال کر اردو دان طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔امید قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہو گی
  • Atlas Of Quran

     6,320
    This Atlas is new in its subject, a subject that has not been touched before. It helps whoever recites the Qur`Gn or studies it to specify the locations mentioned by the Noble Verses, and to mark those places of ancient people mentioned in the Qur`Gn. This is besides locating areas where the incidents of the prophetic Seerah occurred. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. The Atlas has also revealed obscure places we used to pass through inattentively, like the site where Nuh`s Ark settled, the site of the curved Sand-hills {Al Ahqah}, the cave of the young faithful men, the houses of median, the site of Sodom and other places determined by the Atlas depending on reliable sources. Thus the Atlas eliminates all the guessing and the fantasies we used to encounter when reciting the Noble Quran, and takes us to the specific place.
  •    اگر آپ ایک خوب سیرت مسلمان بننا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ توجہ سے فرمایئے کہ اس میں احادیث کی روشنی میں اسلامی آداب و احکام کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ ایک ایمان کا حامل دل فوراً اُن آداب کو اپنا کر اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کا اُمیدوار بن جاتا ہے۔
  •   آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے  لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔
  • ستغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: `اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے
  •  نبی ﷺ پر درود و سلام ` اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺ سے محبت اور والہانہ تعلق و وابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی۔ لیکن وہ درود و سلام کون سا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور جو محبت رسول ﷺ کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ زیرِ نظر کتاب اسی موضوع پر منفرد اور نہایت اہم کتاب ہے جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں صلوٰۃ و سلام کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو ہے۔ جیسا کہ امام ابن القیم ؒ کا اسلوب ہے جو اہلِ علم میں معروف ہے۔
  • ہمارے ہادی و مرشد، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:  `اللہ تعالیٰ کے نناوے، ایک کم سو نام ہیں، جو بھی ان کی حفاطت کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔ وہ وتر یعنی طاق ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے` اللہ کے خوبصورت ناموں کو بہترین انداز میں پیش کرنے والی نایاب کتاب۔

  • Aab e Hayat

     1,820
    دنیا میں انسان مختلف طبیعتوں کے مالک ہیں، اور ان کے پیشے ، کاروبار اور مصروفیات مختلف ہیں۔ہر انسان چاہتا ہے کہ کامیاب ہو، خوب ترقی کرلے، آگے بڑھے، اس کی دشواریاں دور ہوں، بھرپور عزت واحترام ملے، اس کے ساتھ بہترین سلوک اور نمایاں رویّے سے پیش آیا جائے، اس کی صحت اچھی رہے، اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو، اور یہ کہ ساری چیزیں اپنے آپ ہوجائیں اور خود اسے کچھ کرنا نہ پڑے۔کیا ایسی کامیابی اور ترقی کو جس کے لیے خود انسان کو اپنے لیے کچھ کرنا نہ پڑے، خواب کے سوا اور کوئی نام دیا جاسکتا ہے؟کامیابی کا راستہ بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ کامیابی کے سفر میں آپ کو پریشانیاں، دقتیں اور مشکلات برداشت کرناپڑتی ہیں۔ لیکن آخر میں ہرے بھرے باغ انہیں کو ملتے ہیں جو سچی لگن سے محنت کرتے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا راستہ بناتے ہیں۔ہر انسان اپنے معیار کے مطابق کامیابی کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب` آب حیات`  کہنہ مشق صحافی محترم محمد یحیی  خان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اپنے مشاہدات، لوگوں سے ڈیلنگ اور اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نوجوان نسل کو کامیاب زندگی گزانے کے آفاقی  اصول اور گر سکھلائے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو تمام میدانوں میں کامیاب فرمائے اور ان کی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو بہترین بنا دے۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے جہنم سے بچا لیا جائے اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔اللہ تعالی  ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور ہم سب کی مغفرت فرمائے
  • جو قوم اپنی خصوصیات اور روایات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ مسلمان دنیا کی امامت و قیادت کے لیے پیدا ہوئے تھےمگر یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو قوم انسانیت کی قیادت پر مامور کی گئی تھی، وہ خود ترغیبات نفس  کے جال میں پھنس کر اپنی مایہ ناز روایات بھلا بیٹھی  اور مغربی تہذیب کی نقالی میں ڈوب گئی۔ نتیجہ ظاہر کہ آج مسلمان دنیا کی تگ و دو میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہر جگہ اپنے زوال کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ارکان اسلام و ایمان میں دین قیم کا خلاصہ آسان اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی سچی بندگی کی دعوت دی ہے اور کفر، شرک اور بدعت کی ہلاتکوں اور نئی تہذیب کی قباحتوں سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دین کی تما م بنیادی تعلیمات عام فہم اسلوب میں قلم بندد کر کے مسلمان کو دعوت عمل دی گئی ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ دین کی تفہیم ،ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے بغیر  ہماری کامیابی  کا کوئی امکان نہیں۔ یہ کتاب خوب بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔

  • Aaina Jamal e Nabuwat

     1,320

    حضور نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ اور سیرت وسوانح پر اب تک بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں مگر آپ کے جسمانی حسن و جمال پر اب تک بہت کم کتب سامنے آئی ہیں- زیر نظر کتاب اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک بھرپور  اور انتہائی عمدہ کوشش ہےجس میں مصنف  نے دلکش انداز میں آپ ﷺکے حسن و جمال کی ایک جھلک دکھائی ہے- یہ کتاب در اصل ``الرسول کأنک تراہ`` کا اردو ترجمہ ہے  اردو قالب میں ڈھالنے کا کام حافظ عبدالستار حماد نے بخوبی انجام دیا ہے- جب آپ حضور نبی کریم ﷺکی دلنشیں آنکھوں، حسیں رخساروں، کسرتی پنڈلیوں اور خوبصورت ہتھیلیوں کے بارے میں پڑھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ سرور کائنات ﷺکو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں- کتاب کی ایک خاصیت یہ  بھی ہے کہ اس کا تمام تر مواد صحت اسناد کے لحاظ سے مستند اور صحیح احادیث پر مشتمل ہے۔

  • آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم و رواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس سے متعلق اسلام خاموش ہے، اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ظلم ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو اس میں دین و دنیا کے ہر شعبہ سے متعلق راہنمائی ملے گی۔ مغربی معاشرے میں لا علاج مریضوں کو ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جس میں زہر ہوتا ہے اور یہ زہر مریض کی اکھڑی ہوئی ناہموار زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے، جبکہ اسلام ایسی ادویات سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے یہ سبق ملتا ہے کہ بیماری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نویدِ رحمت ہوتی ہے ۔ بیماری سے مومن کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور مریض کی عاجزی اور تسبیح و تہلیل قبول فرما کر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرنے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ زیر نظر کتاب`ہسپتال میں طبیب اور مریض کے ساتھ` دکتور محمد عبد الرحمٰن العریفی کی عربی تصنیف ہے جس کو مولانا حافظ قمر حسن کے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اردو ترجمہ میں ڈھالا ہے۔موصوف نے کتاب ہذا میں مریض، طبیب اور علاج معالجہ سے متعلق دینی احکامات کو قلمبند کیا ہے اور مریض کے عیادت کے فضائل کے ساتھ ساتھ عیادت کے آداب وغیرہ کو بھی درج کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے لیے بلندی درجات کو سبب بنائے اور اہل اسلام کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے
  • انسانی تاریخ سامانِ تفریح نہیں ،سامانِ عبرت ہے۔ہر عقل مند آدمی ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنے حال ومستقبل کی اصلاح کرتا ہے۔گزشتہ نسلوں کے تجربات سے آئندہ نسلوں کو راہِ راست متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرآن مجید نے بھی سابقہ اقوام کے تذکرے اسی لئے بیان کئے ہیں ،تاکہ ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ زیرنظر کتاب ``نیکی کے سفیر`` سعودی عرب کے معروف عالم دین،واعظ اور مبلغ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن عریفی کی تصنیف ہے۔آپ ایک درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں اور دعوت وتبلیغ کے میدان میں بہت بلند مقام پر فائز ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے چند سبق آموز واقعات کو جمع فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی ہے۔کتاب عربی میں ہے جسے اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت معروف مکتبہ دار السلام کے ریسرچ فیلو مولانا تنویر احمد کے حصے میں آئی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبولیت سے نوازے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافے کا باعث بنائے
  • Malka e Aliya

     1,320
    Why is the woman of today facing a lot of problems in the society? Why is the number of harassment cases against females increasing rapidly? Why don`t women feel secure at workplaces? The answer to the questions like these is that women who don`t wear Hijab have to face a lot of problems. They promote temptation in men. New Muslim wear Hijab happily as they know that it will be a protection from the evil prevailing in the society they were living in. No one denies that the modesty which is commanded by Islamic Law and by convention includes the decency and decorousness demanded of a woman and the kind of behavior that will ensure that she is kept far away from situations of temptation and suspicion. Furthermore, there is no doubt that the greatest act of modesty that she can perform is to wear the hijab, which covers her face. It is the best thing and with which she can adorn herself, because it protects Her and keeps her far removed from temptation. This is a unique book of its kind and it presents answers to nearly all questions pertaining to family matters like: beautification of a woman, garments for women, hair styling, and a woman`s speaking with a man, use of perfume for women, mixed education, permissible work for women, legal verdicts pertaining to marriage, children games and clothes etc. This is a must have book. Every Muslim family must keep this splendid book in their homes.
  • انسانی زندگی میں عمل ِصالح کی بڑی اہمیت ہے ۔معاشرے میں کسی فرد کانیک کردار نہ صرف خود اسے فائدہ دیتا ہے بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی اس کی خوش اطواری سےمستفید ہوئے بغیر نہیں رہتے۔عمل صالح کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ۔یو ں عمل   صالح گویا ربانی ملازمت ہے جو آدمی اعمال صالحہ پر کاربند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ دین کی بھی خدمت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے ۔آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے عمل صالح کی توفیق مل جائے تو اس سےبڑی خوشی نصیبی اور کوئی نہیں۔زیر نظر کتاب’’کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف’’ هل تبحث عن وظيفة‘‘ کااردو ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے روزہ مرہ اور تاریخی واقعات کے پس منظر میں یہی باور کرایا ہے کہ عملِ صالح ہی انسانی فلاح وبہبود کاضامن ہے۔امید ہے کہ یہ ایمان افروز کتاب قارئین کو عمل وکردار کے سنوارنے میں مدد دے گی ۔کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے۔زیر تبصرہ کتاب کی اردور ترجمانی کے فرائض دارالسلام کے ریسرچ سکالر حافظ قمر حسن  نے سرانجام دئیے ہیں ۔ اللہ تعالی مصنف ومترجم کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نواز ے اور اس کتاب کو اہل ایمان کی اصلاح کاذریعہ بنائے
  • Alam e Akherat

     3,820
    In recent times things have become very confusing and we have begun to see in book stores and on websites speculations about State of the Next World, future events, based on ayah and hadeeths which refer to these future events concerning the signs of the Hour. Sometimes you hear about the appearance of the Mahdi, sometimes you hear that the final battle between the Good and the Evil is close at hand, other time you hear some thing happening in the East or in the West. So, learn about the Final hour and State of the Next World by reading this book which is backed by proofs from Quran and Hadith.
  • شرک کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود مسجود خالق ومالک ،رازق نہ ماننا اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا گناہِ   کبیرہ ہے۔قرآن مجید میں جابجا شرک کی سخت مذمت کی گئی اورتوحید پر زور دیا گیا ہے ۔حضرت آدم  سے محمدﷺ تک جتنے انبیاء ورسل آئے،سب نے توحید ہی کی دعوت دی اور شرک کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین کی ۔ زیر نظر کتاب ’’سفینۂ نجات ‘‘ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف ’’ارکب معنا‘‘کااردو ترجمہ ہے جس میں شر ک کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس سلسلے میں تاریخ اسلامی کے بصیرت افروز واقعات او رعصر حاضر کی معاشرتی مثالوں سے بھر پور مدد لی گئی۔شرک کے گرداب میں پھنسے ہوئے بدنصیبوں کےلیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ہے اوریہ کتاب شرک کی تباہ کاریوں کا عبرت ناک تذکرہ اور شرک میں پھنسے ہوئے لوگوں کےلیے سفینہ نجات ہے ۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کےدار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کےشعبہ تدریس سے   وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے ۔ ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز  کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے ۔ دار السلام کے ریسرچ سکالر حافظ اقبال صدیق مدنی نے زیر تبصرہ کتاب کے ترجمے او ر عبد الرحمن نے اس کتاب میں   احادیث وروایات کی تخریج کا کام   انجام دیا ہے ۔ اللہ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے
  • زںدگی کےآخری لمحوں ميں اںسان جوطرزعمل اختيارکرتاہےوہ زندگی کا حاصل ہوتاہے۔ايک مسلمان کی زندگی ميں خاتمہ بالخيرکی بڑی اہميت حاصل ہے۔زيرنظرکتاب ميں چندا‫ چھےاوربرےافرادکےآخری لمحوں  کی تصویريں پيش کی گی ہيں۔يہ تصویريں افراد کےلاشعورکی عکاس ہيں،اس کتاب کامطالعہ زندگی کےمسافرکوراہ  زيست کےمتعين کرنےميں مدددےگا۔

  • This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects.
  • This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects.
  • سیرت سرور کائنات وہ سدا بہار،پاکیزہ ،ہر دلعزیز موضوع ہے جسے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گااس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے تاہم موجودہ حالات میں اس کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے بالخصوص نوجوانانِ امت کو مطالعہ سیرت کی طرف راغب کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پیام سیرت دلچسپ پیرائے میں پیش کیا جائے گا۔ زیر نظر کتاب ``پیام سیرت`` ڈاکٹر محمد عبد الرحمن العریفی کتاب کا ترجمہ ہے جس میں انہوں نے نہایت دلنشیں او رمؤثر اسلوب نگارش کا انتخاب کیا ہے جو مطالعۂ سیرت میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان طبقہ کی گہری دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے ۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ``زندگی سے لطف اٹھائیے `` سرفہرست ہے ۔کتاب ہذا کے ترجمہ وتخریج کا کام ساجد الرحمن بہاولپوری نے کیا اور دار السلام نے اعلی معیار پر اسے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو گم کردہ راہ لوگوں کےلیے راہِ راست پر آنے کا سبب بنائے
  • Waqiyah Maeraj Aur us Kai Mushahidaat

     165
    واقعۂ معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے جس کا ثبوت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ دونوں میں ہے۔ لیکن نام نہاد مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی و روحانی یا منامی (خواب کے)مشاہدے سے تعبیر کر کے اس کی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے۔ ایک دوسرا گروہ ہے جو اس میں زیب داستاں کے طور پر بہت سی بے سروپا روایات شامل کر کے اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ صحیح بات کیا ہے؟ یہی اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کے دلائل سےپہلے مؤقف کی بھی تغلیط و تردید کی گئی ہے اور روایات کی تحقیق کر کے دوسرے گروہ کی بے اصل باتوں کی توضیح بھی۔ اس اعتبار سے یہ اردو کی پہلی کتاب ہے جو واقعۂ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی ہے اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیّز کرتی ہے۔
  • لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ``مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں``(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے 
  • قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے ۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام ﷢ نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا ۔زیر نظر کتاب ``عظمت حدیث ``مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف کی تصنیف ہے جوکہ حدیث کے حوالے حافظ صاحب کے 6 مضامین کا مجموعہ ہے ۔ منکرین حدیث اس کتاب کے اولین مخاطب ہیں۔مزید اس کتاب میں حافظ صاحب نے حدیث کی تشریعی حیثیت کے منکرین کے علاوہ حدیث کےبارے میں اہل تقلید کے طرزِ عمل کے نقصانات کا جائزہ لیا ہے او رشاہ والی محدث دہلوی کی مسند کے ``جانشین حضرات`` کو شاہ صاحب ہی کی زبان میں تفہیم کی شاندار کاوش کی ہے مصنف کےنزدیک بعض اہل حدیث حضرات کا طرز عمل بھی غیر محدثانہ روش کا آئینہ دار ہے ۔ اس طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد امن وسلامتی کی راہ اپنانےکے رہنما خطوط پیش کرتے ہوئے حدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوحدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
  • تزکیہ نفس اور تسویہ باطن تمام مذاہب و ادیان کا مقصد  و مدعا رہا ہے۔اسلام نے ایک مکمل ضابطہء حیات ہونے کے باعث اس مقصد کے لیے اذکار و عبادات کا ایک مکمل اور اعلیٰ و ارفع نظام پیش کیا ہے۔یوں تو تمام اسلامی عبادات خالق  و مخلوق کے درمیان ایک مستحکم اور پائیدار رابطہ قائم کرتی ہیں مگر ان میں جو مقام و فضیلت رمضان المبارک کے حوالے سے روزے کو حاصل ہے ۔وہ ایک خصوصی تذکرے کے لائق ہے۔ قرآن مجید میں روزے کو حصول تقویٰ کا ذریعہ بتایاگیا  ہے۔یہ وہ عبادت ہے جو اس مقصد کے لیے سابقہ انبیاء کے زمانہ نبوت میں بھی فرض کی گئی تھی۔اور رمضان المبارک کا ماہ مقدس  نزول قرآن کا مہینہ ہے۔اس کا مقصد انسان کے اندر بہیمی خصائل کو دبا کر ان کی جگہ روحانی و ربانی صفات نشو ونما دینا ہے۔ان  ایام کی گئی نیکی  ستر گناہ زیادہ درجہ رکھتی ہے۔حافظ صلاح الدین یوسف صاحب زمانہ حاضر کے مشہور و معروف قلمکار  ہیں ۔آپ کے قلم میں اللہ تعالیٰ نے سلاست ، وانی اورشگفتگی رکھی ہے ۔ وہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں حتی الوسع اس کا حق ادا کرنے کوشش کرتے ہیں۔ایسے ہی انہوں نے رمضان المبارک کے حوالے کچھ رشحات قلم رقم فرمائے جنہیں دارالسلام نے اشاعتی مراحل سے گزارا۔اور  مصنف موصوف نے بھر پور سعی فرمائی ہے کہ موضوع کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا کماحقہ احاطہ ہو جائے۔اللہ ان کی زندگی و آخرت بہتر بنائے
  • ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا اصل سبب یہ ہے کہ ہر شخص صرف اپنے نفع و نقصان کا ترازو تھامے بیٹھا ہے جس کے نتیجے میں دوسروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں او راپنے فرائض سے غفلت برتی جارہی ہے ۔جب تک یہ صورت حال نہیں بدلتی اور تمام حقداروں کے حقوق بخیر و خوبی ادا کرنے کا احساس پیدا نہیں ہوتا ،معاشرے کی حالت اعتدال پر نہیں آئے گی۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین صاحب یوسف نے  زیر نظر کتاب میں اسی بات کو اجاگر کیا ہے ۔حافظ صاحب موصوف نے حقوق اللہ ،حقوق الوالدین،حقوق الزوجین،حقوق الاولاد اور حقوق العباد کے زیر عنوان ہر فرد کے  حقوق و فرائض کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔اہل اسلام کو اس کتاب کا مطالعہ لازماً کرنا چاہیے تاکہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے آگاہی ہو سکے اور ایک خوبصورت اور پر امن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے
  • A concise part of the comprehensive Haqooq series by the celebrated writer Hafiz Salahuddin Yousuf, Haqooq Awlad is an interesting book on the rights children have over their parents. Just like parents have rights over their children; the children also have rights over their parents in Islam. This book outlines all these right as highlighted in the various ayat of the Holy Quran and the teachings of our beloved Prophet Muhammad PBUH. It highlights the duties parents have to carry out for their children and how to properly perform them. The book touches core areas such as education, provision of basic necessities, good manners, good conduct and necessary supervision. It also sheds light on the four bad habits most children are likely to adopt in the world today and how parents can prevent them. All solutions and guidance mentioned in this book are derived from the teachings of Quran and Sunnah and this book gives detailed references on all of its claims. The book comprises 66 pages in total and is written in Urdu language. انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔ اللہ رب العزت قیامت کےدن اولاد سےوالدین کے متعلق سوال کرنے سےپہلے والدین سےاولاد کےمتعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں ۔شیر خوارگی سےلڑکپن اور جوانی کےمراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار ہوتی ہےاس تربیت کا آغاز والدین کی   اپنی ذات سے ہوتاہے۔اولادکے لیے پاک اور حلال غذا کی فراہمی والدین کے ذمے ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ رزقِ حلال کمائیں۔والدین جھوٹ بولنے کےعادی ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ والدین کی خرابیاں نہ صرف ظاہری طور پر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ باطنی طور پر یہ خرابیاں اس کےاندر رچ بس جاتی ہیں۔ والدین کےجسم میں گردش کرنے والےخون میں اگر حرام ،جھوٹ، فریب، حسد، اور دوسری خرابیوں کےجراثیم موجود ہیں تویہ جراثیم بچے کوبھی وراثت میں ملیں گے۔بچوں کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوشک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حقوق الاولاد‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف کی اولاد کی اچھی تربیت کے حوالے سے اہم تصنیف ہے۔ اس کتاب میں اولاد کے حقوق کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔والدین اس مختصر کتاب کا مطالعہ کریں ان شاء بہت مفید ثابت ہوگی
  • اسلام نے فرد اور معاشرے کی اصلاح ، استحکام، فلاح وبہبود اورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقرر کردیے ہیں۔اسلام کے بیان کردہ حقوق وفرائض میں سے ایک مسئلہ حقوق الزوجین کا ہے ۔ اسلام کی رو سے شادی چونکہ ایک ذمہ داری کانام ہےاس لیے شادی کےبعد خاوند پر بیوی اور بیوی پر خاوند کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا دونوں پر فرض ہے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کالباس ہیں ایک دوسرے کی عزت ہیں ایک کی عزت میں کمی دونوں کےلیے نقصان کا باعث ہے ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے۔زوجین اگر دینی تعلیمات کے مطابق ایک دوسرے کےحقوق خوش دلی سے پور ے کرنے لگیں تونہ صرف بہت سےمفسدات اور خرابیوں کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ہمارا معاشرہ سکون وطمانیت کی پیاسی مادہ پرست دنیا کے لیےبھی امید اورآرام کی سبق آموز بشارت بن جائے ۔حقوق الزوجین کےسلسلے میں قرآن وسنت میں واضح احکام موجود ہیں اور اس موضوع پر کئی اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حقوق الزوجین‘‘ دینی کتب کے طباعت کے عالمی ادارے دارالسلام کی طرف سے شائع شدہ حقوق سیریز میں ایک ہے جسے مفسر قرآن جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف  نے بڑے احسن انداز سے مرتب کیا ۔ایک شوہر ہونے کےناطے بیوی پر اس کے کیا حقوق ہیں ؟ ایک بیوی کی صورت میں شوہر پر اس کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ اوراس کے رسولﷺً نےانہیں کیاحقوق دیے ہیں۔ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کتاب میں موجود ہیں ۔
  • حقوق العباد میں سے سب سے مقدم حق والدین کا  ہے ۔  اور یہ  اتنا اہم حق ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے  حق ِعبادت کے جس حق ذکر کیا ہے وہ والدین کا حق ہے ۔والدین کا حق یہ کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے  ان کا  مکمل ادب واحترم کیا جائے  ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت  وفرنبرداری کی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ۔ قرآں وحدیث سے یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے  کہ والدین سے حسنِ سلوک سے رزق میں فراوانی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے ۔ جب کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا او ران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور بالآخر جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے ساتھ ،والدین سے حسن سلوک نہ کرنے والے سے  اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے  اور یہ ناراضگی اس کی دنیا  اور آخرت دونوں برباد کردیتی ہے ۔ اس لیے  یہ انتہائی ضروری ہے کہ اہم والدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھیں ۔اس معاملے میں  قرآن وسنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس  کی روشنی میں اپنے  رویوں کودرست اور کردار کی تعمیر کریں۔ زیر نظر کتابچہ ’’حقوق الوالدین‘‘ مفسر قرآن  مولانا حافظ صلاح یوسف ﷾ کی  اسی موضوع پر ایک رہنما تحریر ہے۔ جس میں  انہوں نے  بڑے احسن انداز میں والدین کے حقوق  کو  پیش کیا ہے ۔  موضوع کی اہمیت کے پیش نظر دارالسلام سٹوڈیو نے اس کتاب کو آڈیو کیسٹ اور سی ڈی کی صورت میں  بھی پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس  کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ اور ہمیں  اپنے والدین کی عزت واحترم کرنے اور ان کے  حقوق  ادا کرنے والابنائے
  • آج کے دور میں کوئی ایسا بھی ہے جسے کسی دوسرے سے گلہ نہ ہو، کوئی رنجش  یا شکایت نہ ہو۔ ان شکووں سے رشتوں کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی  ہیں۔باہمی تعلق کے گلستان اجڑ رہے ہیں، بندھن کمزور ہو رہے ہیں۔ رویوں میں سرد مہری کی برف جمتی جارہی ہے۔ پیشانیاں شکنوں سے بھرتی جارہی ہیں۔آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان ساری کیفیات کا سبب کیا ہے؟ محبت کی مٹھاس کی جگہ تلخی کا زہر کیوں رگوں میں اتر رہا ہے؟  خوشیاں بانٹنے والے اب دکھ کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟اگر معاشرے پر غور کریں تو ایسے تمام معاملات کی ایک ہی بڑی وجہ سامنے آتی ہے۔اور وہ  ہے کہ کسی  کے حق کی ادئیگی نہ کرنا  یا کسی کا حق چھین لینا۔کیونکہ آج کے دور میں یہ فلسفہ ہر کسی کےذہن میں جگہ بنا چکا ہے کہ دوسروں کا حق دینا نہیں اور اپنا حق چھوڑنا نہیں۔یہی فساد کی بنیادی جڑ ہے۔ تاہم  باہمی حقوق و فرائض کا شعوری فقدان  بھی  اس طرح کے مسائل کو جنم دیتا ہے۔زیرنظر کتاب میں حقوق و فرائض کا  تعارف اور تعین کیا گیا ہے۔تاکہ شعور و آگاہی کی راہ ہموار ہوسکے
  • Written by the celebrated Hafiz Salahuddin Yousuf, Haqooq Allah is an interesting book on the rights of Allah on all Human beings. This book is a part of a comprehensive Haqooq Series and speaks on prominent topics such as Tawhid (Unity and Oneness of Allah), Obligatory five prayers, Zakat (Charity in the way of Allah),Fasting in the Month of Ramadan and Hajj (Pilgrimage to the House of Allah). This book outlines the importance of each of the five pillars of Islam and the benefits one can achieve from correctly observing them. It sheds light on the current situation of our lives, the difficulties and uneasiness that we experience every day and offers solutions to all such matters in a concise way. Comprising of only 44 pages in total, the book answers pressing questions such as the true meaning or worshipping Allah, how associating partners with Allah is against the nature of human beings and what are its different forms, what are the fundamental perquisites of the acceptance of prayers, and many others. The answers of all these questions are supported by authentic references from Quran and Sunnah. The book is written in Urdu in an easy to understand format so that even a ten year old child can easily read and understand it. The preface of this book has been written by Darussalam founder Abdul Malik Mujahod. . اللہ نے ہمیں پیدا کیا ،بے شمار نعمتیں دیں ہمیں زندگی گزارنے کاسلیقہ سکھایا،احکام دیے تاکہ ہم زندگی کو صراط مستقیم پر چلاسکیں ان احکام پر عمل کرنا ہم پر اللہ کا حق ہے اورانہیں ہی حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ اللہ کے ان حکام کوصحیح طریقے سے اور بھرپور انداز میں ماننے کانام ہی بندگی ہے ۔ بندگی کاسلیقہ ہمیں تب ہی آسکتا ہےجب ہم یہ جانیں کے حقوق اللہ کیا ہیں اور ان کو کیسے پورا کیاجاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’حقوق اللہ ‘‘ مفسر قرآن جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی مرتب شدہ ہے۔ ا س میں انہوں نے حقوق اللہ کو عام فہم آسان انداز میں مختصر پیش کیاہے۔ حقوق اللہ کی معرفت اور اس کے تقاضوں کوسمجھنے کے لیے اس کتاب میں   مکمل رہنمائی موجود ہے
  • سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر&nbsp;  حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ   صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے   بے حد مفید ہے
  • عیدالاضحیٰ اسلامی شعائر میں عید الفطر کی طرح ایک عظیم تہوار ہے، جو سنت ابراہیمی کےعظیم الشان اور فقید المثال واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف نے سنت ابراہیمی کے اس روح پرور واقعے کو اپنے محققانہ قلم سے زیب قرطاس کیا ہے۔ فاضل مصنف نے ان تاریخی وقائع کے ضمن میں عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت، عرفے کے روزے کا اجر، تکبیرات کی اہمیت، مسائلقربانی اور عیدالاضحیٰ کی ادائیگی جیسے امور کے مسنون طریق کامحققانہ ذکر کیا ہے۔ اپنے انھی اوصاف کے باعث یہ تحریر مختصر ہونے کے باوجود جامعیت کی حامل ہے۔  عید الاضحیٰ کی مناسبت سے درپیش تمام مسائل کا بخوبی احاطہ کیا گیا ہے جس کے مطالعے سے قارئین اپنے اس عمل کو بارگاہ الٰہی میں مقبول کرانے کا شعور حاصل کریں گے 
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہُم میں بعض ایسی بھی شخصیات تھیں جو زمانہ کفر میں بھی بڑا نمایاں مقام رکھتی تھیں اور جب اسلام قبول کیا تو ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی اور انھوں نے کفر کی حالت میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کی بھر پور تلافی کرنے کی کوشش کی-ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بڑا نمایاں ہے- سید نا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زمانہ کفر میں بھی بڑے دانا ،سمجھدار ،مدبر،خطیب،شاعراور کامیاب سفارت کار تھے- وہ گفتگو کرنے کا سلیقہ اور طریقہ خوب جانتے تھے –حدیبیہ کے مقام پر قریش کی طرف سے سفیر بن کر آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کی شرائط پر قریش مکہ کی طرف سے دستخط کرتے ہیں – پھر ایک دن آیا ،ان کی قسمت نے پلٹا کھایااوروہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کر لیتے ہیں
  • Ghazwa e Tabook

     585

    یہ کوئی عام جنگ نہ تھی ، یہ غزوہ وقت کی سپرپاور رومی سلطنت کے خلاف تھا۔اس کتاب میں قارئین کو اندازہ ہوگا کہ دین ایسے ہی آسانی سے نہیں پھیل گیا۔اس کے لیے زبردست کوششیں اور محنیتیں کی گئی ہیں

  • Naunehalon kay liya Sunehra Azkar

     260
    یہ کتاب بطور خاص ننھے منے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے، اس میں بچوں کے لیے نہایت ضروری دعائو ں کا انتخاب کیا گیا ہے
  • The victory of Qadisiyyah heralded the downfall of the Sasanian Dynasty, paved the way for the conquest of Iraq and quickened Islamic expansion into Persia (Iran) and beyond. The Iranians had 240,000 troops, but the Muslims with about 30,000 soldiers still drove the Iranian Empire, one of the superpowers of the day, into the ground. At Al-Qadisiyyah, the Muslims were able to break the Persian might, dealing them a blow from which they would never recover. The Battle of Al-Qadisiyyah is therefore one of the most decisive battles in the history of humanity.
  • This book is a compilation of various memorable tours and trips of my life that includes Kingdom of Saudi Arabia, Urdan, Nigeria, Africa, China, Italy, Spain, France and many others. I have used very simple and imaginary language so that you may imagine yourself wandering around in these countries. If you ora ny of your loved ones is planning to visit these coiuntries then this book is going to help you alot.
  • کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے `مکتبہ دار السلام`کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہدصاحب طباعتی میدان کی ایک معروف عالمی شخصیت ہیں۔جنہیں اپنے ادارے کے فروغ کے لئے متعدد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،اور وہ اللہ کی توفیق اور مدد سے ان  تمام مشکلات  وچیلنجزسے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب` نوجوان نسل کی رہنمائی کے لئے سنہری یادیں` میں انہوں نے بذات خود اپنی سوانح حیات قلم بند کی ہے اور اپنی زندگی کے تجربات کو نوجوانان امت کے  شیئر کئے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے اپنی پیدائش سے لیکر اس کتاب کی تصنیف تک اپنے حالات زندگی کو تحریر فرمایا ہے۔اس میں انہوں نے اپنا بچپن،اپنا گاؤں،والدہ محترمہ،اساتذہ کرام،سعودی عرب آمد،وزارۃ الدفاع میں ملازمت،شیخ محمد بن عبد اللہ المعتاز سے شناسائی،دار السلام کے قیام ،فروغ اور وسعت،سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبد العزیز سے ملاقات،مسجد نبوی کی لائبریری میں دار السلام کی کتب ،امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس سے ملاقات،پیغام ٹی وی کی سالانہ میٹنگ میں حاضری،دار السلام ریسرچ سنٹر،دار السلام پرنٹنگ کمپلیکس لاہور،اور اپنی زندگی میں پیش آنے والی اس جیسی متعدد  چیزیں بیان  کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’دارالسلام‘‘ میرا خواب تھا۔ ریاض میں اس کی تعبیر سامنے آئی۔ کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے دنیا کی سب سے بہترین طباعت و اشاعت کا ادارہ ، اللہ رب العزت نے اسباب ہی فراہم نہیں کیے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی ٹیم بھی فراہم کر دی۔ آج دارالسلام عالم اسلام کا سب سے نمایاں ادارہ قرار دیا جا رہا ہے، ہم 1400 سے زائد ٹائٹل چھاپ چکے ہیں۔550 انگلش میں اور 330اُردو میں۔ باقی عربی میں۔30 ممالک میں ہماری فرنچائز کام کر رہی ہیں۔ 100 نئی کتابیں آنے والی ہیں۔ ہماری ہر کتاب کا ایڈیشن تین ہزار کا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک نئی روایت ہے کہ ہر کتاب کے کئی کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں صحت اور نیکی والی لمبی زندگی سے نوازےاور ان کے لگائے گئے اس پودے کو ،جو اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے،دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا  فرمائے اور ان کی ان محنتوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔
  • Sunehri Duain (Imported)

     480
    دعائیں کیا ہیں؟ دراصل التجائیں ہیں جو انسان اپنے رب کے حضور پیش کرتا ہے۔مشکل ترین اوقات میںبے اختیار اس کی زبان سے ’’یا اللہ‘‘ نکلتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ اس کو پکاریں، وہ ان کی دعائوں کو قبول کے گا۔اگر آپ نبی کریمﷺ کے صبح و شام کے معمولات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر مرحلے پر آپ نے اپنے رب سے دعا مانگی۔ ان دعائوں میں یا تو آپ نے اپنے رب سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں طلب کیں، یا نقصان دہ امور سے اس کی پناہ مانگی، یا اس کی تسبیح و تعریف کی اور اس کا شکر ادا کیا اور پھراپنے صحابہ کرام کو بھی اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے کا حکم دیا اور انہیں کثرت سے دعائیں مانگنے کی تلقین فرمائی۔ اس کتاب میں روز مرہ کی صرف اہم دعائیں ذکر کی گئی ہیں جن سے عام آدمی کو واسطہ پڑتا ہے۔ اس کتاب سے مدد لیں اور اپنے رب سے مانگیں خوب مانگیں، ہر روز مانگیں، ہر وقت مانگیں۔ آپ خشوع وخضوع سے،گڑگڑا کر،دل کی توجہ سے دعا کریں گے تو آپ زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ 
  • No doubt that Sayida Khadija and her daughters (May Allah be pleased with them all) are the best examples to live a prosperous life for Muslim women. This book by Abdul Malik Mujahid is a lovely collection of authentic events that highlights her intelligence, commitment to religion, sincere belief in God and determination under the most difficult circumstances. The book’s tone is very delicate that literally takes the reader back in time to the very beginning of Islam, providing deep insights into her life and early Islamic era. If you want to gift your girls and daughters something, nothing could be better than this as it will help them learn how to be a faithful Muslim lady, a dedicated wife, and an ideal mother. However, this does not mean this is ‘female only’ book; instead, male can also learn lots of lessons from her life.
  • دین اسلام کے بنیادی عقائد،اصول اور اخلاق وآداب سے متعلق چھوٹی چھوٹی احادیث خصوصاََ ہماری نوجوان نسل کے لیے بے حد مفید ہیں۔اس سنہرے ارشادات کو اپنی روز مرہ کی عملی زندگی میں نافذ کریں اور ایسے معیاری مسلمان بن جائیں جنہیں دیکھ کر لوگ دین اسلام کی طرف راغب ہو سکیں۔
  • اس دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی بناتِ حوا پر مشتمل ہے۔ انسانی معاشرے میں بنات حوا کی اہمیت کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں۔ اسلام نے عورت کو بہت سارے حقوق عطا فرمائے ہیں۔ اسلام سے قبل عورت کی کوئی حیثیت تھی نہ مقام۔ وہ پیدا ہوتی تو اسے باعث عار سمجھا جاتا بلکہ بعض بد بخت تو اسے زمین میں زندہ گاڑ دیتے۔ مگر اسلام نے اسے ایک ماں،  بیٹی، بہن اور بیوی کی صورت میں نہایت مکرم اور معزز مقام عطا فرمایا۔ اسے حق وراثت اور حق ملکیت عطا فرمایا۔مصنف نے جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو بعض واقعات اور کہانیاں جو بلکل سچی تھیں، اس قدر مؤثر اور سبق آموز تھیں کہ اُنکا جی چاہا کہ انکو اپنی بہنوں اور بیٹیوں تک پہنچا دیں۔ ان واقعات کو پڑھنے کے بعد خواتین میں ایک نیا شعور پیدا ہوگا، انھیں اپنی حیثیت اور ذمہ داریوں سے آگاہی حاصل ہوگی اور وہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل چال باز لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے سے محفوظ رہیں گی۔ 

  • اسلامی نظام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں۔ ایمان، نماز، زکاۃ، روزہ اور حج۔ نماز کے بعد زکاۃ دینِ اسلام کا انتہائی اہم رکن ہے۔ ہر قوم میں صدقہ و خیرات کو خدمتِ خلق، انسانی ہمدردی اور عزت و شرافت کا بہت بڑا نشان سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلام میں صدقہ و خیرات صرف اخلاقی فضیلت نہیں بلکہ مالی عبادت، دین کا حصہ اور رکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قران مجید نے 37 آیات میں نماز اور زکاۃ کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے اور 82 مقامات پر اس کا تاکیدی حکم آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو فرض قرار دیا ہے اور اس کے تمام پہلوؤں کو مختلف پیرایوں میں پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے قران مجید کی تشریح و تعبیر کا عملی نمونہ فراہم کیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب `زکاۃ، عشر اور صدقۃ الفطر` اسی اہم اور عظیم الشان رکن اسلام کے احکام و مسائل کا خوبصورت اور جامع تذکرہ ہے۔ اس میں ایک طرف زکاۃ، عشر اور صدقۃ الفطر کے تمام ضروری مسائل کی وضاحت قران و حدیث کی روشنی میں کی گئی ہے۔ دوسری طرف زکاۃ و صدقات کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے جن کے ذریعے سے ان کے معاشرت اور معاشی فوائد سامنے آسکیں اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ان سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکے۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ کتاب زکاۃ و عشر کے متعلق شرعی رہنمائی کے حوالے سے بڑی مفید اور مشعل راہ ثابت ہوگی۔

  • Sunehri Kirney

     1,230
    اسلام نےخواتین کو جو مقام عطا کیا اورانہیں جواہمیت دی ہے اس کی مثال دنیاکاکوئی دوسرامذہب دینےسےقاصرہےبھلا اور کس مذہب میں آپ کو ملے گا کہ ماں کےقدموں کےنیچےجنت ہےاور کس مذہب کےرہنما آپ کو بتائیں گے کہ ہماری خدمت اور حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ہماری مائیں ہیں ۔اور حقیقت یہی ہے کہ شروع ہی سے ہماری نوزائیدہ نسلیں اپنی بالیدگی ،تربیت او ر نشوونما کےلیے اپنی ماؤں کی محتاج رہی ہیں بچوں کی تربیت اور او ران کی مناسب انداز میں اٹھان اتنا بڑا کام ہے اور اس کےلیے اتنی توجہ ،صبر،محبت  اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو مرد کے بس سے باہر کی بات ہے ۔الغرض اسی طرح عورت اپنے ہر رشتے کے اعتبار سے بھی  مقدس ومحترم ہوتی ہے چاہے وہ ایک ماں ،نانی،دادی،بہن،بیٹی ،خالہ اور پھوپھی کے روپ میں ہو یا ساس ،بہو کے روپ میں۔عورت کی شخصیت کےایسے تمام پہلو جن میں اس کی ذہانت ،شجاعت،تقوی،پرہیز گاری او ربہادری ظاہرہوتی ہو اس کتاب کی زینت ہیں۔

Title

Go to Top