-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہُم میں بعض ایسی بھی شخصیات تھیں جو زمانہ کفر میں بھی بڑا نمایاں مقام رکھتی تھیں اور جب اسلام قبول کیا تو ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی اور انھوں نے کفر کی حالت میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کی بھر پور تلافی کرنے کی کوشش کی-ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بڑا نمایاں ہے- سید نا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زمانہ کفر میں بھی بڑے دانا ،سمجھدار ،مدبر،خطیب،شاعراور کامیاب سفارت کار تھے- وہ گفتگو کرنے کا سلیقہ اور طریقہ خوب جانتے تھے –حدیبیہ کے مقام پر قریش کی طرف سے سفیر بن کر آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کی شرائط پر قریش مکہ کی طرف سے دستخط کرتے ہیں – پھر ایک دن آیا ،ان کی قسمت نے پلٹا کھایااوروہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کر لیتے ہیں -
If you only have information and knowledge about one human being in your life, knowing about the prophet Muhammad (PBUH) is the most beneficial. Everything he showed his companions and the rest of the world was beneficial. No one’s life was studied closer and in more detail than his. He let his private life, his family life and his business dealings be the subject of study. He let every aspects of his life, even his tears, be the subject of study. There is no figure in history whose life, public and personal, is so well documented by eyewitness reports. It is truly and enlightening documents to study. -
Many Muslims who were weak and enslaved suffered inhumane persecutions in the early days of Islam. Yet, they remained steadfast and brave in their belief in Islam and support of Prophet Muhammad (PBUH ). Khabbab bin Al-Aratt (R.A) was one of these oppressed believers who had no hope of protection or safety except for their strong belief in Allah`s salvation. Khabbab (R.A) rose from the degrading life of slavery to become a teacher of Allah`s revelation and a warrior in the cause of Allah`s religion. -
No doubt that Sayida Khadija and her daughters (May Allah be pleased with them all) are the best examples to live a prosperous life for Muslim women. This book by Abdul Malik Mujahid is a lovely collection of authentic events that highlights her intelligence, commitment to religion, sincere belief in God and determination under the most difficult circumstances. The book’s tone is very delicate that literally takes the reader back in time to the very beginning of Islam, providing deep insights into her life and early Islamic era. If you want to gift your girls and daughters something, nothing could be better than this as it will help them learn how to be a faithful Muslim lady, a dedicated wife, and an ideal mother. However, this does not mean this is ‘female only’ book; instead, male can also learn lots of lessons from her life. -
Aḥmad bin Muḥammad bin Ḥanbal AbÅ« Ê¿Abd AllÄh al-ShaybÄn commonly known as Imam Ahmad bin Hanbal was a vigorous scholar with enormous influence on Muslim community in the fields of Fiqh and Hadith. He stood steadfast in front of many challenges and presented the true Islam in the light of Quran & Sunnah. Reading his biography will let you know about the amazing character and work of this pious man so that you can also strive to be as better as you can. This biography describes his life, work, and character in detail. -
دینیات یہ کتاب سب سے پہلے 1937ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اسلام کو سمجھنے کے لئے اس کو اس قدر مفید پایاگیا کہ بہت جلد ی اسے برصغیر و ہند میں عام مقبولیت حاصل ہوگئی۔ یہ کتاب خصوصیت کے ساتھ ان نوجوانوں کے لئے لکھی گئی ہے، جو ہائی اسکولوں کی آخری جماعتوں کا کالجز کی ابتدائی منزلوں میں تعلیم پاتے ہوں۔ اردو زبان کے علاوہ دنیا کی بہت سی دوسری زبانوں میں بھی اس کتاب کے ترجمے ہوچکے ہیں۔ اس وقت تک جن زبانوں میں اس کی متراجم ہمارے علم میں آئے ہیں ، وہ یہ ہیں عربی ، فارسی ، ترکی ، انڈونیشی، سواحلی، ہاوسا، انگریزی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی، جاپانی ، تھائی، سنہائی،بنگالی ، سندھی ، گجراتی ، ہندی ، تامل ، مالاہاری، ڈینش، پرتگالی وغیرہ میں -
`شیخ البانی ؒ اہلِ سنت میں سے ہیں، سنت کے داعیوں میں سے ہیں اور حفاظتِ سنت کے راستے پر گامزن مجاہدین میں سے ہیں۔۔۔ حدیث شریف کی صحیح ، ضعیف اور موضوع روایات کے امتیاز و بیان میں ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔۔۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا اللہ رب العزت کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کی علم حق، صحیح منہج اور علم حدیث کی طرف رہبری کی ہے اور بہت زیادہ نفع پہنچایا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اُنکی سوانح حیات ہے جو کہ خاص و عام سب کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے اردگرد کے انسانوں کی عادات و اطوار، زبان، سوچ اور عمل اپنانا شروع کردیتا ہے۔ کردار و عمل کے جیسے نمونے اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت ان کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کو مثالی شخصیت (ہیرو) قرار دے کر اس کے سانچے میں ڈھل جانا چاہتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنا ہیرو عام آدمی کو نہ بناؤ بلکہ خوبی اور جمال کی تصوریں دیکھو۔ عظیم ترین خوبی، کامرانی، حسنِ اعتقاد اور حسنِ عمل کا سب سے زیادہ خوبصورت پیکر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بس انھی کو اپنا رہبر مانو، انھی کو دیکھو، انھی کی سیرت کا مطالعہ کرو اور انھی جیسے پیارے پیارے کام کرو۔۔۔ یہ کتاب اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں، خاص طور پر حضرت محمد ﷺ کے فکر و عمل کے درخشاں نقوش سے مزین ہے۔ آسان، شگفتہ اور شستہ۔ خودبھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ امید ہے حسنِ فکر و عمل کا گلشن کِھلے گا۔ نئی نسل پاکیزہ ترین راستوں کو اپنا کر اپنی اور آپ کی زندگیوں کو سکون اور اطمینان سے معمور کر دے گی۔ -
:خطبات اول تا پنجم حقیقت اسلام حقیقت صوم و صلوۃ حقیقت زکوۃ حقیقت حج حقیقت جہاددین اسلام کے پانچ ارکان کی آسان ترین اور موثرترین دلنشین پیرائے میں وضاحت کی گئی ہے۔ اور دین باطل کے مقابلے میں دین حق کے نفاذکے لئے جہاد کی اہمیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔آخر میں نفاذ شریعت میں حکومت کا کردار بیان کیا گیا ہے -
سیرت نبوی ﷺ ایک سدا بہار موضوع ہے۔ ہر عہد میں اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں اور رسائل تالیف و تصنیف ہوئے ہیں۔ ہر زبان و ادب میں اس موضوع پر ہر نوعیت کی کتابیں دکھائی دیتی ہیں۔ سیرت کو ابتداء میں مغازی، سیر، شمائل، دلائل معارج اور سوانح کی شکل میں لکھا گیا۔ نظم و نثر دونوں پیرائے اس کے لیے اختیار کئے گئے ہیں۔ نثر میں ناول، ڈرامہ اورفن سوانح کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان اصناف ادب میں بھی سیرت نگاری کی کامیاب کوششیں کی گئی ہیں۔
پیش نظر کتاب رسول اکرم ﷺ کی مسکراہٹیں حافظ عبد الشکور صاحب کی سیرت کے موقع پر ایک نادر اور اچھوتی تصنیف ہے۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو عربی کتب میں تو موجود تھا مگر اردو ادب میں اس موضوع پر کوئی خاص تالیف و تصنیف ناپید تھی۔ فاضل مصنف نے ذخیرہ احادیث اور مصدقہ تاریخی واقعات کی قوی شہادتوں سے سیرت طیبہ کے اس موضوع کا کماحقہ ادا کیا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی نادر موضوع کی ضخامت کے پیش نظر غیر مصدقہ روایات اور ضعیف تاریخی واقعات کا سہارا لیا جاتا ے جس سے شاید موضوع میں مصنوعی چاشنی تو پیدا ہو جائے گی مگر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام نہیں ہوتا۔ اگر کی اس معیار کو پیش نظر رکھ کر اس تصنیف لطیف کا جائزہ لیا جائے تو فاضل مصنف کی تحقیق کی داد دینا قرین انصاف ہوگا۔
-
حافظ عبدالشکور نے سیرت کے ایک بالکل نئے موضوع کو متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب رسول الله ﷺ کے آنسو کے عنوان سے ترتیب دی گئی ہے، اس کے لئے جو مواد اکٹھا کیا گیا ہے وہ مستند کتابوں کے صحیح حوالہ جات سے سامنے آیا ہے۔ رسول الله ﷺ کی حیات طیبہ کے تمام احوال پر نگاہ ڈالی جائے بالخوص مکی اور مدنی زندگی کے وقائع پر نظر دوڑائی جائے تو احساس ہوتا ہے که آپ ایک قلب گداز کے حامل تھے۔ زندگی کی سخت جانیوں اور مصائب و شد ائد پر آپ ﷺ نے تحمل، بردباری اور حوصلہ مندی کا اظہار فرمایا مگر غم و الم کے وہ فطری جذبات گاہے گاہے آنسوؤں کے ستارے بن کر مژگان رسول ﷺ پر چمک اٹھے اور کبھی رخ انور پر ڈھلک گئے۔ راتوں کی تنہائی میں اور شدائد کے مقابلے میں آپ اپنے مالک کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دعاؤں کی صورت میں آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی ہے مگر یہ کیفیت آہ و بکا اس نوعیت کی کسی دوسری منفی شکل کا رخ اختیار نہیں کرتی اور یہی آپ ﷺ کی سیرت کا اعجاز ہے۔
-
بہت سے لوگ فضائل و مناقب میں ضعیف، موضوع اور بے اصل روایات علانیہ بیان کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی پکڑ کا انہیں کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ ایک دن ساری مخلوقات کو اللہ کے دربار میں پیش ہونا اور خاص طور پر جن و انس کو اپنے اقوال و افعال کا حساب دینا ہے۔ اس دن مجمرمین کہیں گے: ہائے ہماری تباہی! یہ کیسی کتاب ہے جس میں ہر چھوٹی بڑی بات درج ہے اور وہ اپنے اعمال کو اپنے سامنے حاضر پائیں گے۔ اس کتاب میں صحابہ کرام کے عقائد، احکام، اعمال اور فضائل کی بنیاد قرآن مجید، صحیح احادیث، اجماع اور صحیح ثابت آثار سلف صالحین پر ہے۔
-
Abū ʻAbdillāh Muḥammad ibn Yazīd Ibn Mājah al-Rabʻī al-Qazwīnī commonly known as Ibn Mājah R.A was a scholar of Hadith and the compiler of the authentic collection of Ahadith Sunan Ibn Majah. This books shares the authentic information on the life and work of Imam Ibn Majah R.A and provides a complete biography of him in simple and easy to understand language. -
One of the blessings of Allah upon this Ummah is that He appointed for it people who would undertake to preserve the Sunnah of their Prophet (S). They were the scholars who devoted their entire lives to this monumental task, foregoing physical pleasures and taking delight, instead, in spending the nights recording hadeeths and in undergoing hardships in order to convey even one hadeeth from the Prophet (S). One of those eminent scholars is the subject of this biography: Aboo Daud Sijistaanee -
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں -
سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے -
The Question & Answer form is the most effective and an objective method of teaching. For those who want to acquire the basic information of Islam or wish to check their knowledge about the religion without the labor of formal learning and any research, this series of Questions and Answers about the various aspects of Islam will prove much helpful. The Questions and Answers have been prepared on such basis that all irrespective of age and sex, should get benefited. It is hoped that readers would enjoy reading this collection and getting refreshed about this information presented to them. -
زیرِنظر کتاب کپتب سیروتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہے،اللہ اور اس کے رسول کی پسندیدہ جماعت کی سرکردہ اور نمایاں شخصیات میں سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ کی ذاتِ گرامی ہے،جنھوں نے سیدنا عمرِفاروق رضی اللہ کے بعد امت کی زمام سنبھالی اور خلیفہَ ثالث مقرر ہوئے۔ کتاب میں موجودہ دور کے فتنوں میں کتاب وسنت پر مبنی صیحح موقف اور خلیفہَ ثالث کی شخصیت اور ان کے دوری حکومت کی حقیقی اورسچی تصویر پیش کی ہے۔ -
Imam Tirmidhi was a Persian Islamic scholar who is regarded as one of the most authentic collectors of Ahadith and his compilation of the sayings of the Prophet Muhammad (P.B.U.H) is also included in one of the six canonical collections of Authentic Ahadith known as Saha-e-Sitta. This book is about the life, character, education, work & personality of Imam Tirmidhi and also shares interesting information related to his times and challenges. -
چونکہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، فقہائے کرام اور سلف صالحین کی زندگی امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ان تابندہ ستاروں کی زندگی کے درخشاں واقعات کو اختصار کے ساتھ یکجا کیا جا سکے- زیر مطالعہ کتاب میں عبدالمالک مجاہد نے اسلامی تاریخ کے انہی چنیدہ ستاروں کے واقعات احاطہ تحریر میں لائے ہیں- مصنف نے سیرت رسول ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین اور اس کے بعد ترتیب وار سلف صالحین اور نامور سلاطین کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا ہے کتاب میں ذکر کردہ مصادر صحیح اور مستند ہیں- اسلاف کے تفقہ، رسوخ فی العلم، تواضع، ایثار اور اعلائے کلمۃ الحق کے یہ واقعات ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے گرانقدر راہنمائی فراہم کرتے ہیں -
سیرت سرور کائنات وہ سدا بہار،پاکیزہ ،ہر دلعزیز موضوع ہے جسے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گااس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے تاہم موجودہ حالات میں اس کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے بالخصوص نوجوانانِ امت کو مطالعہ سیرت کی طرف راغب کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پیام سیرت دلچسپ پیرائے میں پیش کیا جائے گا۔ زیر نظر کتاب ``پیام سیرت`` ڈاکٹر محمد عبد الرحمن العریفی کتاب کا ترجمہ ہے جس میں انہوں نے نہایت دلنشیں او رمؤثر اسلوب نگارش کا انتخاب کیا ہے جو مطالعۂ سیرت میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان طبقہ کی گہری دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے ۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ``زندگی سے لطف اٹھائیے `` سرفہرست ہے ۔کتاب ہذا کے ترجمہ وتخریج کا کام ساجد الرحمن بہاولپوری نے کیا اور دار السلام نے اعلی معیار پر اسے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو گم کردہ راہ لوگوں کےلیے راہِ راست پر آنے کا سبب بنائے -
زیرِنظر کتاب` سیرتِ عائشہ رضی اللہ` سیدہ عائشہ صدیقہ رض کی حیات طیبہ عفت وعصمت، فقاہت وثقاہت اور عظمت وصداقت کی آئینہ دار ہے اور قرآن مجید میں ان کی پاکدامنی، پاکیزہ زندگی اور سیرت وکردار کی شہادت اور تذکرہ اس بات کا بین ثبوت ہے۔رسول اللہ کی تعلیمات وارشادات کی نشر واشاعت ان کا ایک شاندار کارنامہ ہے۔ انھوں نے دین وشریعت کی تعلیم وتشریح کے ذریعے سے پوری دنیا کی خواتین کے لیے ایک کامل اسوہَ حیات اور گراں بہا علمی وعملی ورثہ چھوڑا ہے -
اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی -
Hadhrat Ayesha (may Allah be pleased with her) who carried the name of Siddiqa was addressed as the mother of Believers. She had no children, her father was Abu Bakr (The Fist Khalifah) and her mother was Umm Roman, Extraordinary people reveal their greatness from their earliest years. Ayesha was no exception, her manners were sublime. The life of Ayesha is proof that a woman can be far more learned than men and that she can be the teachers of scholars and experts. Her life is also proof that a woman can exert influence over men and women and provide them with inspiration and leadership. The 'Life of Ayesha Siddiqa' is an extremely important and useful book written in Urdu by the Late Allamah Syed Sulaiman Nadwi, a noted historian and scholar in Indian sub-continent, this marvellous book is based on the most authentic sources about the life of the Prophet's wife Ayesha Siddiqa, may Allah be pleased with her. She became one of the most important reporters of Hadith. Both men and women came to learn about Islam from her. Her life shows how a Muslim woman can use her intelligence and scholarship to make enormous contributions to the cause of Islam. Ayesha Razi Allah is the wife of Prophet Muhammad (S A W). Read about the life history and biography of Aisha bint Abu Bakr Razi Allah Anu in the Urdu language. Study Hazrat Ayesha Siddiqa ki Zindagi in the Urdu book and married life of Hazrat Aisha in Urdu. this Islami Urdu literature as long as 319 pages You may also read Syed Sulaiman Nadvi Books in Urdu. -
یہودیت قرآن کی روشنی میں واضح رہے کہ یہ کتاب مولانامغفورکی مختلف تحریروں کو ان کے وسیع لٹریچر میں سے یکجا کرکے ترتیب دی گئی ہے تاہم اپنے موضوع پر جامع معلومات کی بنا پر ایک مستقل تصنیف کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُمید ہے کہ قارئین اس سے پوری طرح مستفید ہوں گے اور ان کو یہودیت کی تاریخ اور اس کی اصلی خدوخال سے واقفیت حاصل ہوسکے گی ۔ -
صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے -
کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے `مکتبہ دار السلام`کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہدصاحب طباعتی میدان کی ایک معروف عالمی شخصیت ہیں۔جنہیں اپنے ادارے کے فروغ کے لئے متعدد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،اور وہ اللہ کی توفیق اور مدد سے ان تمام مشکلات وچیلنجزسے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب` نوجوان نسل کی رہنمائی کے لئے سنہری یادیں` میں انہوں نے بذات خود اپنی سوانح حیات قلم بند کی ہے اور اپنی زندگی کے تجربات کو نوجوانان امت کے شیئر کئے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے اپنی پیدائش سے لیکر اس کتاب کی تصنیف تک اپنے حالات زندگی کو تحریر فرمایا ہے۔اس میں انہوں نے اپنا بچپن،اپنا گاؤں،والدہ محترمہ،اساتذہ کرام،سعودی عرب آمد،وزارۃ الدفاع میں ملازمت،شیخ محمد بن عبد اللہ المعتاز سے شناسائی،دار السلام کے قیام ،فروغ اور وسعت،سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبد العزیز سے ملاقات،مسجد نبوی کی لائبریری میں دار السلام کی کتب ،امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس سے ملاقات،پیغام ٹی وی کی سالانہ میٹنگ میں حاضری،دار السلام ریسرچ سنٹر،دار السلام پرنٹنگ کمپلیکس لاہور،اور اپنی زندگی میں پیش آنے والی اس جیسی متعدد چیزیں بیان کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’دارالسلام‘‘ میرا خواب تھا۔ ریاض میں اس کی تعبیر سامنے آئی۔ کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے دنیا کی سب سے بہترین طباعت و اشاعت کا ادارہ ، اللہ رب العزت نے اسباب ہی فراہم نہیں کیے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی ٹیم بھی فراہم کر دی۔ آج دارالسلام عالم اسلام کا سب سے نمایاں ادارہ قرار دیا جا رہا ہے، ہم 1400 سے زائد ٹائٹل چھاپ چکے ہیں۔550 انگلش میں اور 330اُردو میں۔ باقی عربی میں۔30 ممالک میں ہماری فرنچائز کام کر رہی ہیں۔ 100 نئی کتابیں آنے والی ہیں۔ ہماری ہر کتاب کا ایڈیشن تین ہزار کا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک نئی روایت ہے کہ ہر کتاب کے کئی کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں صحت اور نیکی والی لمبی زندگی سے نوازےاور ان کے لگائے گئے اس پودے کو ،جو اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے،دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا فرمائے اور ان کی ان محنتوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ -
زیر نظر کتاب میرے اسلاف مصنف کی وہ تصنیف لطیف ہے جس کی ہر ہر سطر میں اہل علم سے محبت جھلک اور چھلک رہی ہے۔ اس کتاب میں مولانا محمد بکنوی، مولانا عطاء اللہ شہید، علامہ احسان الہی ظہیر، پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاول پوری، مولانا عبد اللہ گورداس پوری اور مولانا محمد اسحاق بھٹی کے حالات و واقعات قلم بند کیے گئے ہیں۔ یہ چھ وہ محترم شخصیات ہیں جنھوں نے زندگی بھر کتاب و سنت کا علم ہر سو لہرانے کی سعی فرمائی، ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنھوں نے بانگ دہل کلمات کہنے کی وجہ سے اپنی جان کا نذرانہ بھی راہ خدا میں پیش کردیا۔ الله تعالی جمیع اسلاف کی تمام تر دینی کاوشوں کو شرف قبولیت بخش کر ان کی نجات کا زریعه بنائے۔
-
زیر نظر کتاب میں مسلمانوں کی عظیم ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مسلم بچیوں اور خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔ یہ ہماری وہ عظیم ماں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ کتاب میں سیدہ کی عقل و فہم، دینداری، ایمانداری، اخلاص، ثابت قدمی، وفا شعاری، اور مجاہدانہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے گویا قاری اسی دور میں موجود ہے اور ام المؤمنین کی زندگی کا بچشم خود مشاہدہ کر رہا ہے۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم ترین واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد اور اہل بیت کی زندگی پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔ اس سارے عمل میں تحقیق کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضعیف و بے اصل واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب امت مسلمہ کی خواتین کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
-
جلیل القدر صحابہ اکرام کی زندگی پر مشتمل ایک عمدہ مستند اور جامع کتب۔وہ عظیم المرتبت، جلیل القدر ہستیاں ہیں جن کی زندگیاں شمع رسالت سے ضیا بار ہوئیں۔ ان کی پاکیزہ سیرت کا ہر پہلواسوۃ رسول کی کرنوں سے منور ہے۔ Good book to know the personalities of Sahaba Karam and how Islam brought beautiful changes in to their lives.
A good way to learn about great men of Islam being our role models. All characters of sahabas are explained in a story form. -
حضور نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ اور سیرت وسوانح پر اب تک بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں مگر آپ کے جسمانی حسن و جمال پر اب تک بہت کم کتب سامنے آئی ہیں- زیر نظر کتاب اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک بھرپور اور انتہائی عمدہ کوشش ہےجس میں مصنف نے دلکش انداز میں آپ ﷺکے حسن و جمال کی ایک جھلک دکھائی ہے- یہ کتاب در اصل ``الرسول کأنک تراہ`` کا اردو ترجمہ ہے اردو قالب میں ڈھالنے کا کام حافظ عبدالستار حماد نے بخوبی انجام دیا ہے- جب آپ حضور نبی کریم ﷺکی دلنشیں آنکھوں، حسیں رخساروں، کسرتی پنڈلیوں اور خوبصورت ہتھیلیوں کے بارے میں پڑھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ سرور کائنات ﷺکو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں- کتاب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس کا تمام تر مواد صحت اسناد کے لحاظ سے مستند اور صحیح احادیث پر مشتمل ہے۔
-
سیدنا فاروق اعظمؒ کی زندگی اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے ہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ نے حکومت کے انتظام و انصرام، بے مثال عدل و انصاف، عمال حکومت کی سخت نگرانی، رعایا کے حقوق کی پاسداری، اخلاص نیت و عمل، جہاد فی سبیل اللہ اور دعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سیدنا عمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی، اسے فاروق اعظم کے قائم کردہ ان زریں اصولوں کو مشعل اہ بنانا پڑا، جنھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنے مخصوص انداز میں صحابہ کرام کی زندگی کے چنیدہ واقعات کو قلمبند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے زیر نظر کتاب اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس میں فاروق اعظم کی زندگی کے سنہری واقعات احاطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ -
This book is a compilation of various memorable tours and trips of my life that includes Kingdom of Saudi Arabia, Urdan, Nigeria, Africa, China, Italy, Spain, France and many others. I have used very simple and imaginary language so that you may imagine yourself wandering around in these countries. If you ora ny of your loved ones is planning to visit these coiuntries then this book is going to help you alot. -
From the day he embraced Islam until the day he died, Abu Bakr As-Siddique (May Allah be pleased with him) was the ideal Muslim, surpassing all other Companions in every sphere of life. During the Prophet`s lifetime, Abu Bakr was an exemplary soldier on the battlefield; upon the Prophet`s death, Abu Bakr (May Allah be pleased with him) remained steadfast and, through the help of Allah, held this nation together. When others suggested keeping Usaamah`s army back, Abu Bakr insisted - and correctly so - that the army should continue the mission which the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) had in mind. When people refused to pay Zakaat, and when the apostates threatened the stability of the Muslim nation, Abu Bakr (May Allah be pleased with him) was the one who remained firm and took decisive action against them. These are just some of the examples of Abu Bakr`s many wonderful achievements throughout his life. I have endeavored to describe all of the above in a clear and organized manner. But more so than anything else, I have tried to show how Abu Bakr`s methodology as a Muslim and as a ruler helped establish the foundations of a strong, stable, and prosperous country - one that began in Al-Madeenah, extended throughout the Arabian Peninsula, and then reached far-off lands outside of Arabia. Throughout the brief period of his caliphate (about 2 years), Abu Bakr As-Siddiq (May Allah be pleased with him) faced both internal and external challenges; the former mainly involved quelling the apostate factions of Arabia and establishing justice and peace among the citizens of the Muslim nation; and the latter mainly involved expanding the borders of the Muslim nation by spreading the message of Islam to foreign nations and conquering those nations that stood in the way of the propagation of Islam. During the era of his caliphate, Khalifah Abu Bakr As Siddeeq (May Allah be pleased with him) sent out armies that achieved important conquests; for example, under the command of Khaalid ibn Al-Waleed (May Allah be pleased with him) the Muslim army gained an important victory in Iraq. And the Muslim army achieved other important victories under the commands of Al-Muthannah ibn Haarithah (May Allah be pleased with him) and Al-Qa`qaa ibn `Amr (May Allah be pleased with him). In short, the victories achieved during the era of Abu Bakr`s Caliphate paved the way for victories that later took place after Abu Bakr`s death. I have tried to analyze the above-mentioned conquests and to break down the reasons why they were such monumental successes. I particularly pointed out Abu Bakr`s contributions to those conquests: His military strategy, the leaders he chose, the letters through which he communicated with them, and so on. -
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات‘‘ اشاعت کتب کے معروف انٹر نیشنل ادارے دار السلام کے ڈائریکٹر جناب مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی ایک منفر د کاوش ہے۔ موصوف نے مختلف کتب سیرت و تاریخ سے استفادہ کر کے ان واقعات کو ایک جگہ یکجا کردیا ہے۔ ان واقعات سے ہمیں آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں اخلاق نبویﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا ہے اور پوری کوشش سے صرف ان واقعات کو شامل کیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کاتذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ درالسلام لاہور برانچ کی ریسرچ ٹیم کی اس کتاب پر تحقیق وتخریج سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے -
امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔